حیدرآباد۔ 17 اکٹوبر ( سیاست نیوز) الیکشن شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی تلنگانہ انتخابی مہم میں مصروف چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ مختلف اسمبلی حلقوں میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے مصروف ترین دن گذار رہے ہیں۔ ہر دن دو اسمبلی حلقوں میں جلسہ عام سے چیف منسٹر خطاب کررہے ہیں۔ آج شام سدی پیٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرنے کے بعد حیدرآباد واپس ہونے کے دوران چیف منسٹر کے سی آر نے سدی پیٹ کے مضافات میں واقع پونالہ سونی دھابہ میں تھوڑی دیر کے لئے توقف کیا۔ دھابہ میں چیف منسٹر نے چائے نوشی کی۔ اس موقع پر چیف منسٹر کے سی آر کے ساتھ ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ، بی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کے پربھاکر ریڈی، دامودھر راؤ، رکن قانون ساز کونسل مدھو سدھن چاری کے علاوہ سدی پیٹ کے چند قائدین موجود تھے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ چیف منسٹر کے سی آر نے پارٹی قائدین کے ساتھ ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور بی آر ایس کے کامیاب جلسوں کے انعقاد پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ بی آر ایس میں ناراض سرگرمیوں بالخصوص مقامی اداروں کے عوامی منتخب نمائندوں کی ناراضگی اور پارٹی سے مستعفی ہونے کا چیف منسٹر نے سخت نوٹ لیا۔ پارٹی کے ارکان اسمبلی اور امیدواروں کو انہیں منانے پر زور دیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کانگریس کی پہلی فہرست کی اجرائی کے بعد کانگریس پارٹی میں ناراضگیوں کا بھی جائزہ لیا۔ ساتھ ہی بی جے پی کی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ایک طرف بی آر ایس کی ناراضگیوں کو کنٹرول کرنے کی ہدایت دی اور دوسری جماعتوں کے ناراض اہم قائدین سے رابطہ میں رہنے کی پارٹی قائدین کو ہدایت دی۔ بی آر ایس کے امیدواروں کو اپنے اپنے حلقوں میں انتخابی مہم کے دوران سماج کے تمام طبقات کا اعتماد حاصل کرنے پر زور دیا۔ ن