چین میں نئی بیماری ‘ ہندوستانیوں کیلئے بہت کم خطرہ

   

کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وزارت صحت تیار
نئی دہلی : مرکزی وزارت صحت نے کل کہا کہ شمالی چین میں بچوں میں سانس لینے سے متعلق بیماریوں اور H9N2 انفیکشن کے معاملات پر ہندوستان کی گہری نظر ہے۔ وزارت صحت نے کہا کہ چین میں رپورٹ ہونے والے ایویئن انفلوئنزا کے معاملات اور سانس کی بیماریوں سے ہندوستان کو کم خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان چین میں انفلوئنزا کی صورتحال سے پیدا ہونے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ میڈیا رپورٹس میں شمالی چین میں بچوں میں سانس کی بیماریوں کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ایک بیان جاری کیا ہے۔وزارت نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق چین میں گزشتہ چند ہفتوں میں سانس لینے سے متعلق بیماریوں کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس نے کہا کہ بچوں میں سانس کی بیماری کی عام وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے اور کسی غیر معمولی پیتھوجینز یا غیر متوقع طبی علامات کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔وزارت نے بتایا کہ حال ہی میں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز کی سربراہی میں ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں چین میں اکتوبر میں H9N2 (ایویئن انفلوئنزا وائرس) سے ایک شخص کے متاثر ہونے کے معاملہ کی ڈبلیو ایچ او کو دی گئی جانکاری کے پس منظر میں ہندوستان میں ایویئن انفلوئنزا سے نمٹنے کی تیاری کے لئے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت نے کہا کہ “ڈبلیو ایچ او کی طرف سے کئے گئے مجموعی خطرے کا اندازہ اس انفیکشن کے انسان سے انسان میں پھیلنے کے کم امکان کی نشاندہی کرتا ہے اور اب تک سامنے آئے لوگوں میں H9N2 معاملات میں کم شرح اموات کا اشارہ دیتا ہے۔”