چین میں کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار ٹھپ

   

بیجنگ: چینی اتھارٹی نے پورے ملک میں کووڈ لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع کر دی ہے جس سے کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے چین میں اپنا کام معطل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔بی بی سی نے منگل کو یہ اطلاع دی۔پورے ملک میں لاکھوں افراد کو سخت پابندیوں کا سامنا ہے ۔ اتھارٹی نے صوبہ جیلین اور ٹیکنالوجی سنٹر شینزین میں ریکارڈ تعداد میں کورونا انفیکشن معاملوں کے اندراج کے بعد مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے ۔ٹویوٹا، ووکس ویگن اور ایپل سپلائر فوکسکن اس خوف سے کہ لاک ڈاؤن سے اہم سپلائی میں خلل پڑ سکتا ہے اپنے کاموں کو روک دیا ہے ۔منگل کو چین میں کورونا انفیکشن کے پانچ ہزار سے زائد معاملے درج ہوئے جن میں سے سب سے زیادہ معاملے جیلن سے آئے ہیں۔شمال مشرقی صوبے کے تقریباً 24 ملین باشندوں کو پیر سے کورنٹائن میں رکھا گیا ہے ۔ چین نے کورونا وبا کے آغاز پر ووہان اور ہوبی میں لاک ڈاؤن کے بعد پہلی مرتبہ پورے صوبے میں پابندیاں عائد کی ہیں۔