چین کا بیرون ملک رویہ جارحانہ، امریکہ چین سے ٹکراؤ نہیں چاہتا

   

G-7 وزرائے خارجہ کے دوبدو اجلاس میںامریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کی شرکت
لندن : امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے آج چین کے بارے میںاہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ (چین) بیرون ملک جارحانہ رویہ اختیار کرلیتا ہے اور خود اپنے ہی ملک میں یعنی داخلی طور پر اس کا رویہ جارحیت سے عاری ہوتا ہے۔ سی بی ایس نیوز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے مسٹر بلنکن نے کہا کہ امریکہ چین کو نیچا دکھانا نہیں چاہتا لیکن بین الاقوامی سطح پر جو ضابطے اور قوانین وضع کئے گئے ہیں، امریکہ نہیں چاہتا کہ چین ان کی خلاف ورزی کرے انہوں نے خصوصی طور پر کہا کہ اس سلسلہ میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی ٹکراؤ دونوں ہی ممالک کے مفاد میں نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں کورونا وبا، جاسوسی اور تجارت کو لیکر دونوں ممالک کشیدگی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ چین نے بھی بائیڈن حکومت سے بارہا یہ تعلقات خوشگوار کرنے کی بات کہی ہے۔ یاد رہیکہ سابق صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے دور میں چین۔ امریکہ تعلقات کشیدگی کا شکار ہوگئے تھے۔ سی بی ایس کے ’’60 منٹس‘‘ پروگرام کے دوران مسٹر بلنکن نے کہا کہ مسٹر بائیڈن کے ساتھ صدر چین ژی جن پنگ نے مختلف موضوعات کا احاطہ کرتے ہوئے ٹیلیفون پر طویل بات چیت کی تھی۔ فروری میں کی گئی بات چیت دو گھنٹے طویل تھی۔ امریکہ چین کی معاشی شعبہ میں کی گئی کارروائی کو لیکر فکرمند ضرور ہے جن میں انٹلکچول پراپرٹی کا سرقہ بھی شامل ہے۔ بلنکن نے کہا کہ وہ چین کو اپنا دشمن بھی نہیں کہہ سکتے۔ تاہم انہوں نے چین پر تجارتی رازوں کے سرقہ کے ذریعہ کروڑوں ڈالرس کا امریکہ کو نقصان پہنچانے کا الزام ضرور عائد کیا۔ واضح رہیکہ انٹونی بلنکن G-7 ممالک کے وزرائے خارجہ کے پہلے دوبدو پروگرام میں شرکت کرنے کیلئے لندن میں موجود ہیں۔ دوسری طرف امریکی صدر جوبائیڈن نے گذشتہ ہفتہ کانگریس سے اپنے پہلے خطاب کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ چین کے ساتھ کوئی ٹکراؤ نہیں چاہتا اور اس سلسلہ میں انہوں نے صدر چین ژی جن پنگ کو بھی فون پر بات کرتے ہوئے یہ بتادیا تھا کہ وہ (بائیڈن) مسابقت کو پسند کرتے ہیں چاہے وہ کسی بھی شعبہ میں ہو۔