حیدرآباد ۔11۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاست میں ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن کے مستقل تقرر کے مسئلہ پر ہائیکورٹ نے پرنسپل سکریٹری ہیلت و انچارج ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن کو توہین عدالت کی نوٹس جاری کرتے ہوئے 21 ڈسمبر کو شخصی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے مستقل ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن کے تقرر کے سلسلہ میں احکامات پر 7 ماہ کے دوران عمل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عہدیداروں سے وضاحت طلب کی ہے۔ جسٹس ایس نندا نے سکریٹری ہیلت سید علی مرتضی رضوی اور انچارج ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر کے رمیش ریڈی کو شخصی طور پر 21 ڈسمبر کو حاضر عدالت ہونے کی ہدایت دی ہے۔ ڈاکٹر کے مہیش صدر ہیلت کیر ریفارمس ڈاکٹر اسوسی ایشن نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ریاستی حکومت جونیئر عہدیدار کو انچارج ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن کے طور پر گزشتہ 6 برسوں سے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ سینئر عہدیداروں کی موجودگی کے باوجود جونیئر عہدیدار کو ذمہ داری دی گئی۔ ہائی کورٹ نے 24 اپریل کو رمیش ریڈی کے تقرر کے احکامات کو معطل کرتے ہوئے مستقل ڈائرکٹر کے تقرر کی ہدایت دی تھی لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ درخواست گزار کے وکیل کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے دونوں عہدیداروں کو توہین عدالت کی نوٹس دی ہے۔