ٹمپا: ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ انٹرنیٹ صارفین کا ڈیجیٹل ڈیٹا ممکنہ طور پر ڈارک ویب پر مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے۔ڈیجیٹل شیڈوز فوٹون ریسرچ ٹیم کی جانب سے مرتب کی جانے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس تقریباً 25 ارب فون نمبر، ای میل ایڈریس،کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات اور لاگ اِن کی تفصیلات فروخت کے لیے پیش کی گئیں۔مجرمان انٹرنیٹ صارفین کے بینک اکاؤنٹ کی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے چیزوں کو خرید سکتے ہیں، ہیلتھ انشورنس پر میڈیل کیئر حاصل کر سکتے ہیں اور صارفین کے نام سے جرائم انجام دے کر سکتے ہیں۔