ڈبل بیڈ روم مکانات کی اسکیم اعلانات تک محدود

   

Ferty9 Clinic

عوام حوالگی کے احکامات کے منتظر ، کئی پراجکٹس پر کام بند !
حیدرآباد۔9جون(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کے بے گھر افراد کو ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی کا اعلان کیا گیا تھا اور اس سلسلہ میں متعدد مقامات کی نشاندہی کے علاوہ تعمیر کے کاموں کا آغاز بھی کردیا گیا تھا لیکن برسوں سے جاری یہ تعمیرات اب تک مکمل نہیں ہوسکے ہیں اور نہ ہی ڈبل بیڈ روم مکانات کی حوالگی کے سلسلہ میں کوئی احکامات جاری کئے گئے ہیں بلکہ عمارتو ںکی تعمیر کی تکمیل کے معاملہ میں بھی کی جانے والی لاپرواہی سے عوام بد ظن ہونے لگے ہیں۔ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست تلنگانہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود کے علاوہ نواحی علاقوں میں ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی فراہمی کے سلسلہ میں متعدد اعلانات کئے جاتے رہے ہیں لیکن ابتداء میں جن فلیٹس کو حوالہ کیا گیا اس کے بعد سے صرف اعلانات کئے جا رہے ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدودمیں جاری تعمیراتی پراجکٹس جوں کے توں برقرار ہیں اور فنڈس کی عدم اجرائی کے سبب کئی پراجکٹس کے کام رکے ہوئے ہیں ۔ریاستی حکومت کی جانب سے انتخابات سے قبل بے روزگار نوجوانوں کو بے روزگاری بھتہ کی فراہمی کا اعلان کیا گیا تھا اسی طرح تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت نے عوام سے متعدد وعدے کئے تھے لیکن ان وعدوں کو پورا کرنے کے معاملہ میں حکومت کی ناکامی اب آشکار ہونے لگی ہے لیکن اس کے باوجود ریاستی حکومت تلنگانہ کو فلاحی ریاست قرار دے رہی ہے جبکہ ریاست میں فلاحی اسکیمات کے متعلق عوام اب بھی عدم اطمینان کا شکار ہیں ۔بلدی حدود میں تعمیر کئے جانے والے ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی عدم تکمیل کے مسئلہ پر اپوزیشن کی جانب سے لاک ڈاؤن سے قبل بجٹ کی اجرائی کے مطالبات کئے جانے لگے تھے اور حکومت کی جانب سے بجٹ کی عدم اجرائی کی صورت میں بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کرنے کا انتباہ دیا جانے لگا تھا ۔ لاک ڈاؤن کے دوران حکومت بالخصوص مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر میں کئی ایک مرمتی و تعمیراتی کاموں کی انجام دہی کو یقینی بنایا گیا لیکن ڈبل بیڈ روم فلیٹس کی تعمیر کے مرحلوں کی تکمیل کو نظر انداز کیا گیا جو کہ غریب بے گھر خاندانوں کو دھوکہ دہی کے مترادف ہے ۔