l نیویارک کی 12 رکنی جیوری کا فیصلہ l نومبر میں منعقد شدنی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل l صدر بننے کے باوجود معافی کا اختیار صرف نیویارک کے گورنر کو ہوگا
نیویارک: ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے ایسے پہلے صدر بن گئے ہیں جنہیں کسی جرم کے لیے مجرم قرار دیا گیا ہو۔ عدالت کا یہ تاریخی فیصلہ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے صرف چند ماہ پہلے آیا ہے، جس میں وہ خود بھی ممکنہ امیدوار ہیں۔سابق صدر77 سالہ ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنے کاروباری ریکارڈ میں خرد برد اور فحش فلموں کی اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز کو منہ بند رکھنے کے لیے ادا کی گئی رقم (ہش منی) کو چھپانے کے لیے جعلی کاغذات تیار کرنے سمیت 34 الزامات کا سامنا تھا۔جمعرات کے روز امریکی ریاست نیویارک کی ایک عدالت کی 12رکنی جیوری نے انہیں ہش منی سمیت تمام الزامات میں مجرم قرار دے دیا۔ جیوری نے دو روز میں 11 گھنٹے سے زائد وقت تک اس معاملے کی سماعت کی جس کے بعد چند منٹوں میں متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔ وہ امریکہ کی 250 سالہ تاریخ کے پہلے ایسے سابق صدر بن گئے ہیں جنہیں کسی جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔سزا کا اعلان گیارہ جولائی کو کیا جائے گا۔اصولی طور پر انہیں ہر جرم کے لیے چار سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے لیکن ماہرین قانون کے مطابق انہیں رعایت ملنے کا امکان زیادہ ہے۔عدالت نے تاہم ڈونالڈ ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر جو بائیڈن کے خلاف اپنی انتخابی مہم جاری رکھنے سے نہیں روکا ہے۔ وہ جیل جانے کی صورت میں بھی اپنی مہم چلاسکتے ہیں۔عدالت کے فیصلے کے بعد سابق صدر ٹرمپ نے مقدمے کی سماعت کو غیر شفاف قرار دیا اور کہا کہ ججوں کا رویہ متعصبانہ تھا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔جیوری کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد ٹرمپ نے فوراً اپنا دفاع کیا۔ انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں ایک بہت ہی معصوم شخص ہوں۔‘ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ‘اصل فیصلہ‘ رائے دہندگان کی طرف سے آئے گا۔ انہوں نے اس مقدمے کو ’دھاندلی زدہ‘ اور ’ذلت آمیز‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے ماضی میں بھی تمام مقدمات میں خود کو بے قصور قرار دیا تھا، اور کہا تھا کہ صدر جو بائیڈن کے ڈیموکریٹک اتحادی انہیں سیاسی طورپر نقصان پہنچانے کی سازش کررہے ہیں۔ ٹرمپ کے ساتھی رپبلکن ارکان نے بھی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے ایک بیان میں کہا کہ آج کا دن امریکی تاریخ کا شرمناک دن ہے۔ صدر بائیڈن کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم نے عدالت کے فیصلے کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ‘کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘ٹرمپ نے ہماری جمہوریت کے لیے جو خطرہ پیدا کیا ہے وہ پہلے کبھی اس سے زیادہ نہیں تھا۔‘یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب صدراتی انتخاب میں چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں، جس میں ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کی جانب سے ممکنہ امیدوار ہیں۔ چند ہفتے بعد ریپبلکن کی نیشنل کنونشن ہونے والی ہے جس میں ٹرمپ کو پارٹی کی جانب سے باضابطہ صدارتی امیدوار نامزد کیا جائے گا۔
ٹرمپ پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک وقت میں اپنے وکیل مائیکل کوہن کو 2016 کے انتخابات سے پہلے، پورن فلموں کی اداکارہ سٹورمی ڈینیئلز کو ایک لاکھ تیس ہزار ڈالر ادا کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ ڈینیئلز کو یہ انکشاف کرنے سے منہ بند رکھا جاسکے کہ ان کا ٹرمپ کے ساتھ ایک رات کا جنسی تعلق قائم ہوا تھا۔ ٹرمپ نے اس کام کے لیے اپنے کاروباری ریکارڈ میں جعلسازی کی۔اگر اس وقت ڈینیئلز کا دعویٰ منظر عام پر آجاتا تو انتخابی مہم میں ٹرمپ کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ منہ بندرکھنے کے لیے رقم ادا کرنا اور اس ادائیگی کو غیرقانونی طریقے سے چھپانا ایک وسیع تر جرم کا حصہ تھے جس کا مقصد ووٹروں کو ٹرمپ کے رویے اور کردار کے بارے میں لاعلم رکھنا تھا۔ٹرمپ کا دفاع کرنے والے وکلاء کا تاہم موقف تھا کہ انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش محض جمہوریت ہے اور سابق صدر نے کچھ بھی غلط نہیں کیا تھا۔ہش منی اور کاروباری ریکارڈ میں خردبرد کے علاوہ سابق صدر ٹرمپ کو 2020 کے انتخابات میں بائیڈن کی بطور صدر توثیق کا عمل روکنے کی سازش کرنے اور وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد خفیہ دستاویزات اپنے ساتھ لے جانے کے وفاقی اور ریاستی الزامات کا بھی سامنا ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اگر الیکشن جیت کر صدر بن جاتے ہیں تو بھی بحیثیت صدر وہ خود کو معافی نہیں دے سکیں گے کیونکہ یہ مقدمہ دفاقی حکومت نے نہیں بلکہ ریاست نیویارک نے قائم کیا تھا، اور اس سزا کی معافی صرف نیویارک کے گورنر ہی دے سکتے ہیں۔