ممبئی: مہاراشٹرا اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نرہری جروال اور قبائلی برادری کے دو ایم ایل ایز نے جمعہ کو منترالیہ کی تیسری منزل سے چھلانگ لگا دی، انہوں نے یہ قدم قبائلی برادری سے متعلق مسائل کے حوالے سے اٹھایا۔ حالانکہ تینوں محفوظ ہیں۔قابل ذکر ہے کہ خودکشی کی کوششوں کو روکنے 2018 میں منترالیہ کی ہر منزل پر جال لگائے گئے تھے ۔قبائلی برادری کے ایم ایل اے گزشتہ چند دنوں سے دھنگر ریزرویشن اور بھرتی معاملے سمیت مختلف مطالبات پر احتجاج کر رہے تھے ۔ منترالیہ میں داخل ہونے کے بعد اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور دونوں ایم ایل اے تیسری منزل سے حفاظتی جال پر گر ے ۔ایم ایل اے نیشنلسٹ کانگریس (اجیت پوار ) کے ہیں اور اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جروال اور ایم ایل ایز کو بعد میں پولیس نے بحفاظت باہر نکال لیا۔دھنگر برادری کو قبائلی زمرے میں شامل کرنے چیف منسٹر ایکناتھ شندے نے کمیٹی تشکیل دی اور اس کیلئے مسودہ بھی تیار کیا جا رہا ہے ۔ تاہم، دھنگر برادری کو قبائلی زمرے میں شامل کرنے کی مخالفت نرہری جروال سمیت قبائلی برادری کے اراکین اسمبلی نے کی ہے ۔ نرہری اس معاملے پر جارحانہ ہوگئے اور انہوں نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔چار دن پہلے جروال ایم ایل ایز کے ساتھ منترالیہ کے داخلی دروازے کے سامنے احتجاج کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ حکومت ہماری بات نہیں سن رہی ہے ۔قبل ازیں منگل کو سیکریٹریٹ میں ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ہم گزشتہ دو سال سے اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں کہ پیسا بھرتی ہوگی یا پھر دھنگروں کو قبائلی زمرے میں سے ریزرویشن دینے کا فیصلہ، لیکن، اس سلسلے میں ہمیں فیصلے کرتے وقت اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور براہ راست قوانین بنادئے جاتے ہیں۔