نئی دہلی : خودساختہ مذہبی گرو ونود کشیپ نے روحانیت اختیار کرنے سے برسوں پہلے دوارکا میں اپنے دو منزلہ مکان میں دربار منعقد کرنا شروع کیا تھا ۔ اس نے قریبی ہاسپٹل میں بطور معاون کام کیا ۔ یہ اُس کا شوق نہیں تھا بلکہ مجبوری تھی ۔ میڈیا کے مطابق 25ہزار روپئے ماہانہ تنخواہ پر چار تا پانچ سال کام کرنے کے بعد اُس نے نوکری چھوڑ دی اور آشرم کھولنے کا فیصلہ کیا ۔ اس کے پیروکارو ں میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ ہر ہفتہ تقریباً 400پریشان حال لوگ اُس کے گھر آکر پرارتھنا کرتے تھے ۔ پولیس نے منگل کو ونود کشیپ کو گرفتار کرلیا جس پر آشرم میں اپنے کئی عقیدت مندوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انہیں خاموش کرنے کیلئے بلیک میل کرنے کا الزام ہے ۔ وہ کمرے کے چبوترے پر اور پیروکار سامنے زمین پر بیٹھتے تھے ۔