نئی دہلی، 8اکتوبر (یو این آئی) مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے چہارشنبہ کے روز ڈیجیٹل اریسٹ سے متعلق معاملات کی تحقیقات میں ‘آپریشن چکر-5’ کے تحت ایک بین الاقوامی سائبر “ڈیجیٹل اریسٹ” دھوکہ دہی کے سلسلے میں دہلی-قومی راجدھانی خطہ ، ہریانہ، راجستھان، گجرات، کیرالا اور مغربی بنگال سمیت تقریباً 40 مقامات پر مربوط اور ملک گیر سطح پر چھاپہ ماری کی کارروائی انجام دی۔ سی بی آئی نے قومی سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (این سی آر پی) پر موصول نو مختلف متاثرہ افراد کی شکایات کی بنیاد پر ایک ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس کے بعد، سی بی آئی نے دھوکہ دہی کیلئے استعمال ہونے والے اکاؤنٹس اور ٹیلی مواصلات ذرائع پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے گہرائی سے تفتیش کی۔ اس تفتیش کے نتیجے میں تقریباً 40 ایسے افراد کی شناخت کی گئی جو ڈیجیٹل اریسٹ دھوکہ دہی انجام دینے والے منظم سائبر کرائم نیٹ ورک کا حصہ تھے ۔ اس کارروائی کے دوران سی بی آئی نے ایک بڑے گھریلو سہولت نیٹ ورک کا پتہ لگایا، جو جرائم سے حاصل ہونے والی آمدنی کو چھپانے اور اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کیلئے فرضی بینک اکاؤنٹس فراہم کرنے اور حوالہ چینلز کے استعمال میں ملوث تھا۔
تفتیش سے معلوم ہوا کہ رقم کا ایک حصہ ہندوستان میں نکالا گیا، جبکہ باقی رقم بیرون ملک بھیجی گئی، جہاں سے اسے غیر ملکی اے ٹی ایم سے نکالا گیا۔ سی بی آئی نے 15,000 سے زائد آئی پی ایڈریسز کا تجزیہ کرتے ہوئے پتہ لگایا کہ ڈیجیٹل اریسٹ دھوکہ دہی کے ملزم کمبوڈیا سمیت دیگر غیر ملکی مقامات سے اپنا کام کر رہے تھے اور جرائم کی آمدنی کو چھپانے کیلئے ہندوستانی فرضی کھاتوں کے مستفدین کا استعمال کر رہے تھے ۔ تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس نیٹ ورک نے رقم منتقل کرنے والے ایجنٹس کے ذریعے اعلیٰ قدر کے فنڈز کو منتقل کیا اور فِن ٹیک انفراسٹرکچر استعمال کر کے تیزی سے رقم میں خورد برد کی۔ تلاشی کی کارروائی کے دوران ضبط کیے گئے ڈیجیٹل آلات،کے وائی سی دستاویزات، سم کارڈز اور واٹس ایپ کمیونیکیشن آرکائیو کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ گھریلو معاونین اور مرکزی سازشیوں کے درمیان تعلقات کو قائم کیا جا سکے اور جرائم میں استعمال ہونے والے طریقے ، مالی لین دین کے راستے اور مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی نقشہ بندی کی جا سکے ۔ سی بی آئی کی جانب سے دی گئی معلومات میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ سائبر مالیاتی جرائم سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے ۔