ڈیموکریٹس کی شکست غزہ پر ان کے مجرمانہ مؤقف کی قیمت ہے :حماس

   

غزہ: امریکی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر حماس کے عہدے دار کی جانب سے رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے ۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی شکست غزہ پر ان کے مجرمانہ مؤقف کی قیمت ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ جو بائیڈن کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔دوسری جانب نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کوئی نئی جنگ شروع نہیں کروں گا بلکہ جاری جنگوں کو بھی ختم کروں گا۔اب جبکہ ٹرمپ فاتح بن کر ابھرے ہیں، ری پبلکن لیڈر کی جیت کو مشرق وسطی کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں جائزہ لیتے ہوئے 1945 میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اور سعودی شاہ عبدالعزیز بن سعود کے درمیان نہر سویز میں امریکہ کے جنگی جہاز پر ملاقات اور تاریخی مذاکرات کے بعد سے خاصے پیچیدہ رہے ہیں۔نیوز کے مطابق سی این این اور امریکہ کے بعض دوسرے بڑے چینلز کا کہنا ہے کہ الیکشن کے مکمل نتائج سامنے آنے کے بعد فاتح کا اعلان کر دیا جائے گا۔بہرحال اوول آفس میں جو بھی بیٹھے، تاہم ٹیبل پر پڑی ٹریز میں سب سے نمایاں نام ’مشرق وسطیٰ‘ کا ہو گا یہ سب سے زیادہ توجہ کا طالب بھی ہو گا اور وہاں بیٹھنے والے نئے صدر کے ذہن پر بھی حاوی رہے گا۔یہ بات بھی بہت اہم ہو گی کہ مشرق وسطٰی سے متعلق مسائل سے کس طرح نمٹا جاتا ہے۔ چیلنجز کے اس مجموعے سے کچھ ایسا بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جو اس سے قبل کوئی امریکی صدر نہیں پا سکا یا پھر پیچیدہ اور تباہ کن مسائل بڑھ بھی سکتے ہیں۔
نومبر 2016 میں اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ’میں ایسا شخص بننا پسند کروں گا جو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن قائم کر دے۔اس پر بہت سے لوگوں نے انہیں بتایا کہ یہ ناممکن ہے اور وہ ایسا نہیں کر پائیں گے۔اس کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں ایسا کر سکتا ہوں اور میرے پاس اس کی وجہ بھی ہے۔ماضی قریب سے عیاں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ویسا نہیں کر پائے، جیسا کہا تھا۔جمی کارٹر جنہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں 1979 میں مصر اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی قیادت کی اور حالات امن معاہدے پر منتج ہوئے، سے لے کر بعد میں آنے والے صدور مشرق وسطٰی کے حالات کی طرف متوجہ ہوتے رہے ہیں۔بہرحال ابھی تک سفارتی حلقوں میں فلسطین اور اسرائیل کے معاملے کو ’امن کے لیے امریکی کوششوں کا قبرستان‘ قرار دیا جاتا ہے۔