تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے یوسی کوہن کی جگہ ڈیوڈ بارنیہ کوبدنام زمانہ خفیہ ادارے ‘موساد؛ کا نیا سربراہ مقرر کیا ہے۔پیر کو نئی تقرری کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران نتن یاہو نے کہا کہ بارنیہ کی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ چاہے ایرانی جوہری معاہدے میں واپسی ہو یا نہیں ، ہم تہران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔نتن یاہو کے دفتر کے مطابق بارنیہ 2019 سے موساد کے نائب سربراہ کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ یوسی کوہن کی جگہ ہے پر تعینات کیے گئے ہیں جوموساد میں 2015 سے انٹلیجنس سروس کی قیادت کر رہا ہے۔ڈیوڈ ڈیڈی بارنیہ کو اسرائیل میں “D-Dalit” عرف سے جانا جاتا ہے۔ اس نے اسرائیلی کمانڈو یونٹ اور ایلیٹ فورس میں خدمات انجام دیں اور موساد کی مختلف ڈیویژنوں میں متعدد عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے نیو یارک یونیورسٹی سے فنانس میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر ڈگری بھی حاصل کی ہے۔رپورٹ کے مطابق سنہ 1966ء کو موساد میں بھرتی ہونے سے قبل بارنیہ اسرائیل کے ایک انویسٹمنٹ بینک میں بزنس منیجر کے طور پربھی کام کرچکے ہیں۔بارنیہ نے اسمبلی افسران کے تربیتی کورس میں حصہ لیا جس کے بعد انہیں آپریشنز ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے اسرائیل اور بیرون ملک آپریشنز یونٹوں کی کمان سنبھالی۔ 2013 سے لیکر 2019 تک انہوں نے موساد میں ’’زومیت ‘‘ ڈیویژن کی کمان سنبھالی تھی۔ ان کے دورمیں موساد کو چار کامیاب ایوارڈ بھی حاصل ہوئے۔
