کالیشورم پراجکٹ پر سی ڈبلیو سی کے اعتراضات۔ چیف منسٹر ناراض

   


تلنگانہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا دہلی میں اجلاس، جامع رپورٹ پیش کرنے کی عہدیداروں کو ہدایت
حیدرآباد۔/18اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کالیشورم لفٹ اریگیشن پراجکٹ کو منظوری دینے کے بعد دوبارہ اعتراضات کرنے پر مرکزی حکومت کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس اسکیم پر سی ڈبلیو سی کی جانب سے اعتراضات کرنے پر اس کا جائزہ لینے کیلئے چیف منسٹر کے سی آر نے دہلی میں تلنگانہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اس کا جائزہ لیا ہے۔ قبل ازیں چیف منسٹر کی ہدایت پر محکمہ آبپاشی کے اسپیشل پرنسپل سکریٹری رجت کمار کے علاوہ دوسرے اعلیٰ عہدیدارفوری دہلی پہنچ گئے اور چیف منسٹر سے ملاقات کرتے ہوئے تازہ صورتحال کا جائزہ لیا اور عہدیداروں نے چیف منسٹر کو تمام تفصیلات سے واقف کرایا ہے۔ کالیشورم پراجکٹ سے روزانہ 2 ٹی ایم سی پانی منتقل کرنے کے ساتھ مزید ایک ٹی ایم سی ملاکر تلنگانہ حکومت کی جانب سے داخل کردہ ترمیمی پراجکٹ رپورٹ پر سی ڈبلیو سی نے 11 سوالات کئے ہیں یہ سب اہم سوالات ہیں اس کا جواب دینے کیلئے عہدیدار دو ہفتوں سے تیاری کررہے ہیں۔ بالآخر ان تمام سوالات کو ماہرین سے رجوع کرتے ہوئے جواب تیار کئے گئے ہیں۔ اس کی ایک کاپی چیف منسٹر کے سی آر کو پیش کی گئی ہے۔ چیف منسٹر کی ہدایت پر اعلیٰ عہدیدار سی ڈبلیو سی سے رجوع ہوکر جامع رپورٹ پیش کرچکے ہیں۔ کالیشورم لفٹ اریگشن اسکیم کے ترمیمی ڈی پی آر پر سی ڈبلیو سی کی جانب سے خطوط پر خطوط روانہ کئے جارہے تھے۔ اس سلسلہ میں سی ڈبلیو سی نے 15 ستمبر کو ایک مکتوب روانہ کیا اس کے بعد 29 ستمبر کو 11 سوالات پر مشتمل ایک اور مکتوب روانہ کرتے ہوئے ترمیمی رپورٹ کو (جی آئی ایس ) میاپنگ سے منسلک کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ن