کالیشورم پروجیکٹ کی ناقص تعمیر کا پردہ فاش، بی آر ایس پر عوام سے غیر مشروط معافی مانگنے پر زور
حیدرآباد، 30 اکٹوبر (سیاست نیوز) گاندھی بھون میں آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر قائد و سابق رکن اسمبلی اے انیل نے بی آر ایس کے سینئر قائد ہریش راؤ اور سابق حکومت پر کالیشورم پروجیکٹ میں سنگین بدعنوانیوں اور ناقص تعمیر کے شدید الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے سینئر قائد ہریش راؤ اور سابق حکومت کی پیسوں کی لالچ اور مجرمانہ لاپرواہی کی وجہ سے ہی کالیشورم پروجیکٹ کا یہ ابتر حشر ہوا ہے۔اے انیل نے مزید بتایا کہ نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) کے رکن سمیر کمار شکلے نے میڈی گڈا بیراج پر انتہائی واضح اور حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی ہے۔ تکنیکی کمیٹی نے ابتدائی طور پر اسٹیلنگ بیس کی مرمت کا منصوبہ تیار کیا تھا، تاہم گہرے مطالعے اور معائنے کے بعد اصل منصوبے کو اس لیے روک دیا گیا کیونکہ تعمیرات کو انتہائی ناقص معیار کا پایا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ این ڈی ایس اے نے اپنی رپورٹ میں صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ بیاریج کو سائنٹیفک اصولوں اور تکنیکی معیارات کو مکمل طور پر بالائے طاق رکھتے ہوئے ان جگہوں کے برعکس دوسری جگہوں پر تعمیر کیا گیا جہاں اسے اصولی طور پر بننا چاہیے تھا۔بی آر ایس پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ این ڈی ایس اے کی واضح ہدایت ہے کہ بیاریجکے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں، جبکہ بی آر ایس قائدین بضد ہیں کہ پانی اٹھایا جائے۔ ایسے میں حکومت کس کی بات سنے ؟ کیا بی آر ایس کے قائدین این ڈی ایس اے کے ماہرین و سائنسدانوں سے زیادہ ذہین ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے سینئر قائد ہریش راؤ اور سابق حکومت اپنی غلطیوں کا ملبہ بلاوجہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی اور موجودہ حکومت پر ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اے انیل نے پرزور مطالبہ کیا کہ بی آر ایس قائدین کو تلنگانہ کے عوام سے اپنے کیے کی غیر مشروط معافی مانگنی چاہیے۔—2