کالیشورم کے ڈیزائن میں تبدیلی کو مرکز کی منظوری حاصل نہیں

   

پروفیسر کودنڈا رام کا الزام، بی آر ایس قائدین کو کھلے مباحث کا چیلنج
حیدرآباد ۔ یکم مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ جنا سمیتی کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام نے بی آر ایس قائدین کو چیلنج کیا کہ کالیشورم پراجکٹ میں بدعنوانیوں اور نقائص پر کھلے مباحث کے لئے تیار ہوجائیں۔ حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر کودنڈا رام نے بی آرایس قائدین کے دورہ میڈی گڈا کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ پروفیسر کودنڈا رام نے کہاکہ کالیشورم کے مسئلہ پر بی آر ایس کا حال ایک چور خود کو بچانے کیلئے دوسرے کو چور چور کہہ کر پکارنے کی طرح ہے ۔ پراجکٹ کی تعمیر بی آر ایس دور حکومت میں انجام پائی اور تقریباً ایک لاکھ کروڑ خرچ کئے گئے۔ وقفہ وقفہ سے پراجکٹ کے تخمینہ میں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈی گڈا اور انارم بیاریجس میں غیر معیاری کاموں کے سبب پلرس زمین میں دھنس گئے اور انارم بیاریج میں لکیج پیدا ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین ماہرین کی کمیٹی کو نظر انداز نہیں کرسکتے ، جس نے نقائص کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین کے اس استدلال کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ بیاریج محض تین پلرس زمین میں دھنس گئے ہیں جس سے پراجکٹس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم اور بیدر پراجکٹس پر وہ بی آر ایس قائدین کو کھلے مباحث کا چیلنج کرتے ہیں۔ اگر وہ تیار ہوں تو 10 مارچ کو مباحث کا اعلان کریں۔ کودنڈا رام نے کہا کہ کے سی آر کالیشورم پراجکٹ کو مقدس گائے سے تعبیر کر رہے ہیں جبکہ پراجکٹ کی تعمیر میں کئی بے قاعدگیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کی ڈیزائننگ، بجٹ کی اجرائی اور ٹکنیکل شعبہ میں خامیوں کے سبب پراجکٹ ایک ناکام مساعی ثابت ہورہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر نے اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے کالیشورم پراجکٹ تعمیر کیا۔ انجنیئرس کی مداخلت کے بغیر ہی کے سی آر نے ڈیزائن تبدیل کیا جس کے نتیجہ میں کئی علاقے پانی کی سربراہی سے محروم ہیں۔ کودنڈا رام نے کہا کہ ڈیزائن کی تبدیلی کو مرکزی وزارت جل شکتی کی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ مرکزی حکومت نے اس سلسلہ میں واضح کردیا ہے کہ تلنگانہ حکومت نے ڈیزائین کی منظوری حاصل نہیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل واٹر کمیشن نے میڈی گڈا بیاریج کی تعمیر کی مخالفت کی تھی لیکن کے سی آر حکومت نے سنٹرل واٹر کمیشن کی وارننگ کو نظر انداز کردیا جس کے نتیجہ میں پراجکٹ کے پلرس زمین میں دھنس چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گاؤں گاؤں گھوم کر کے سی آر حکومت کی بے قاعدگیوں کو عوام کے درمیان پیش کریں گے۔ 1