کے سی آر سیاسی انتقام لیتے تو کانگریس کے نصف ارکان اسمبلی جیل میں ہوتے : ہریش راؤ
حیدرآباد 28 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیر ہریش راؤ نے کہاکہ اقتدار حاصل کرنے کے اندرون 2 ماہ 14 ہزار کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کا کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا۔ انتخابی مہم میں ریاست کو مقروض کردینے کا بی آر ایس حکومت پر الزام عائد کرنے والے ریونت ریڈی سے اب کیوں قرض حاصل کیا جارہا ہے، استفسار کیا۔ اسمبلی حلقہ میدک کے بی آر ایس قائدین سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ حلقہ لوک سبھا میدک میں بی آر ایس بہت زیادہ طاقتور ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ 7 کے منجملہ 6 اسمبلی حلقوں میں بی آر ایس نے کامیابی حاصل کی ہے۔ معمولی ووٹوں کی اکثریت سے پدما دیویندر ریڈی کو شکست ہوجانے کا دعویٰ کیا۔ ہریش راؤ نے کہاکہ بی آر ایس کے دور حکومت میں چیف منسٹر کے سی آر نے سیاسی انتقام نہیں لیا اگر لیا ہوتا تو کانگریس کے نصف ارکان اسمبلی جیل میں ہوتے تھے۔ سدی پیٹ میں منعقدہ ایک اور اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہاکہ ریونت ریڈی کو چیف منسٹر کا عہدہ بی آر ایس سربراہ کے سی آر کی بھیک ہے۔ اگر کے سی آر تحریک نہیں چلاتے تو علیحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل نہیں پاتی، اگر تلنگانہ نہیں بنتا تو ریونت ریڈی بھی چیف منسٹر نہیں بنتے۔ سابق وزیر نے کانگریس حکومت پر وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوجانے کا الزام عائد کیا۔ سرکاری خزانہ خالی بی آر ایس حکومت بدعنوانیوں میں مبتلا ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں سے انحراف کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کا اعلامیہ جاری ہونے سے پہلے 6 گیارنٹی اور دیگر وعدوں پر عمل کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہاکہ کانگریس کی حکومت جھوٹ کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ بی آر ایس حکومت کے خلاف من گھڑت اطلاعات پھیلائی گئیں جس میں چند یو ٹیوب چیانلس کا بھی اہم رول رہا ہے جس سے بی آر ایس اقتدار سے محروم ہوئی۔ کسانوں کو دو لاکھ روپئے تک قرض فوری معاف کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ 2