’’فوبیا ، پولیٹکس اور پرسنٹیج‘‘۔ خواتین کو ماہانہ 2,500 روپئے دینے کا وعدہ پورا نہیں ہوا
حیدرآباد۔ 24 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے کانگریس حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ’ پی پی پی ‘ کے ماڈل پر کام کررہی ہے جس کا مطلب فوبیا، پولیٹکس اور پرسنٹیج ہے۔ محبوب آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ حکومت تمام شعبوں میں ناکام ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو کے سی آر فوبیا ہوگیا ہے۔ وہ جب بھی مائیک تھامتے ہیں، کے سی آر پر تنقید کرنے کے علاوہ دوسری کوئی بات نہیں کرتے۔ کویتا نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت کو 10% کمیشن کی حکومت کہا جارہا ہے کیونکہ ہر کام کمیشن وصول کئے بغیر نہیں کیا جارہا ہے۔ ریونت ریڈی حکومت صرف سیاسی ہتھکنڈے اپنا رہی ہے ۔ عوامی مسائل اور مشکلات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے جبکہ چیف منسٹر انتخابی مہم میں مصروف ہے۔ خواتین کو ماہانہ 2,500 روپئے دینے کا وعدہ پورا نہیں کیا گیا جبکہ دیگر ریاستوں میں اس کی جھوٹی تشہیر کی جارہی ہے۔ خواتین کو بسوں میں مفت سفر کی سہولت تو فراہم کی گئی ہے، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ بسوں کی تعداد گھٹا دی گئی۔ بی آر ایس لیڈر نے آٹو ڈرائیورس کو سالانہ 12 ہزار روپئے مالی امداد دینے کا مطالبہ کیا۔ کویتا نے بی آر ایس کے دور حکومت میں شروع کردہ فلاحی اسکیمات کو روک دینے کا الزام لگایا۔ کسانوں کے قرضے بھی مکمل طور پر معاف نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے کسان خودکشی پر مجبور ہیں۔ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں سماج کے تمام طبقات کیلئے فلاحی اسکیمس متعارف کی گئی اور اس پر پوری طرح عمل بھی کیا گیا۔ کانگریس نے انتخابی مہم میں عوام سے جو وعدے کئے تھے، اس پر وہ اب تک عمل نہیں کیا جس پر عوام میں ریونت ریڈی حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے۔ 2