کانگریس حکومتوں میں ہی ملک کی ترقی ہوئی ‘ عوامی شعبہ کی کمپنیاں قائم ہوئیں

,

   

تلنگانہ حکومت 10 سال سے کھوئی ہوئی آزادی کو بحال کرنے کوشاں۔ قلعہ گولکنڈہ میں یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کا خطاب

حیدرآباد /15 اگسٹ ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ عوام کی خوشحالی ہی حقیقی آزادی ہے، عوام کی فلاح و بہبود اور ریاست کی ترقی کا نشانہ مختص کرتے ہوئے کانگریس حکومت کام کررہی ہے، اظہار خیال کو ساتویں ضمانت کے طور پر نافذ کیا جارہا ہے۔ یوم آزادی کے موقع پر تاریخی قلعہ گولکنڈہ میں قومی پرچم لہرانے کے بعد چیف منسٹر نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سارے ملک کو 15 اگسٹ 1947 کو آزادی ملی مگر تلنگانہ کے عوام کو 3 ڈسمبر کو حقیقی آزادی ملی ہے۔ گذشتہ 10 سال میںعوام کی اظہار خیال کی آزادی کو ختم کردیا گیا تھا۔ کریم نگر کے جلسہ عام میں سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ تشکیل دینے کا وعدہ کیا تھا۔2 جون 2014 کو اس وعدہ کی تکمیل کردی گئی ہے۔ جس طرح ملک کو انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں سے آزاد کیا گیا اسی جذبہ اور جدوجہد سے 3 ڈسمبر 2023 کو آزادی حاصل کی گئی۔ اب ریاست میں عوام کیلئے عوام کی پسند کی عوام کی جانب سے منتخبہ حکومت قائم ہوئی ہے۔ ریاست میں پہلی مرتبہ جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آیا ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح گذشتہ 10 سال میں تلنگانہ کی کھوئی ہوئی آزادی کو بحال کرنا ہے۔ چیف منسٹر نے ملک اور ریاست کے عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی میں کانگریس نے اہم رول ادا کیا ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں ہی کافی اصلاحات کی جا رہی ہیں ۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے دور حکومت سے ہی ملک کی ترقی کا آغاز ہوا ہے۔ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر میں جواہر لعل نہرو نے اہم رول ادا کیا ہے۔ اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور پی وی نرسمہا راؤ کے دور حکومت میں تمام شعبوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لائے گئے جس سے ملک نے بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پی وی نرسمہا راؤ کے اقتصادی اصلاحات سے ملک میں خوشحالی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عظیم رہنماؤں کی قربانیوں سے ہم نے آزادی حاصل کی ہے۔ ہم بابائے قوم مہاتما گاندھی کی توقعات کے مطابق حکمرانی فراہم کررہے ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کئی نئی فلاحی اسکیمات متعارف کرائی گئی ہیں اور ریاست کو ترقی دینے کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کرتے ہوئے کام کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ کی معاشی صورتحال پر وائیٹ پیپر جاری کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آج ملک ی ترقی نہرو ویژن کا نتیجہ ہے اور ان ہی کے شروع کئے گئے منصوبوں سے ملک سرسبز و شاداب ہوگیا ہے۔ بی ایچ ای ایل اور مدھانی جیسی کمپنیاں کانگریس کے دور حکومت میں قائم ہوئیں۔ لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی نے زرعی انقلاب برپا کیا۔ یہ کانگریس کی طرف سے ملک کیلئے کی گئی خدمات کی چند مثالیں ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے زیادہ سود پر قرض حاصل کرتے ہوئے ریاست کو 7 لاکھ کروڑ روپئے کا مقروض بنادیا۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ ان کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران ورلڈ بینک کے صدر سے ملاقات ہوئی اور ورلڈ بینک نے کم شرح سود پر قرض دینے کیلئے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ ہم پچھلی حکومت کی طرح زیادہ شرح سود پر قرض حاصل کرتے ہوئے عوام پر مالی بوجھ عائد نہیں کریں گے۔ ورنگل ڈیکلریشن کے مطابق کسانوں کے قرض معاف کئے جارہے ہیں۔2 لاکھ روپئے کے قرض معافی کو چند لوگوں نے ناممکن قرار دیا تھا جس کو ممکن کرکے دکھایا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تکنیکی مسائل کے باعث چند کسانوں کے قرض معاف نہیں ہوئے ہیں ایسے کسانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے دو لاکھ روپئے تک قرض کو معاف کردیا جائے گا۔ کلکٹریٹ میں کاؤنٹرس قائم کرتے ہوئے مسائل کی یکسوئی کی جائے گی۔ 6 گیارنٹیز پر عمل کیا جارہا ہے۔ آروگیہ شری اسکیم کی عظمت رفتہ کو بحال کیا جائے گا۔ 5 لاکھ کی حد کو بڑھا کر 10 لاکھ روپئے کردیا گیا ہے۔ بہت جلد تمام اہل کسانوں کو ریتو بھروسہ اسکم سے فائدہ پہنچایا جائے گا۔ باریک چاول کو 500 روپئے بونس دیا جائے گا۔ منشیات کو آہنی پنجہ سے کچلنے سخت فیصلے کئے جارہے ہیں۔ اراضیات کے مسائل کو حل کرنے جامع قانون سازی کی تیاری کی جارہی ہے۔ دھرانی کے زیر التوا درخواستوں کا فوری حل برآمد کیا جائے گا۔ سائبر دھوکہ دہی اور اس کا شکار ہونے والوں کی مدد کرنے کیلئے 1930 نمبر متعارف کرایا گیا ہے۔ بہت جلد ایجوکیشن کمیشن قائم کیا جائے گا۔ آنگن واڑی سنٹرس کو پری پرائمری اسکولس میں تبدیل کیا جائے گا۔ انٹگریٹیڈ ماڈل اسکولس تعمیر کئے جائیں گے۔ حال ہی میں اِسکل یونیورسٹی کے قیام کیلئے سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔2