کانگریس رکن اسمبلی سے خواتین کے چبھتے ہوئے سوالات

   

ایک تولہ سونا، ماہانہ 2500 روپے مالی امداد اور دیگر وعدوں کو پورانہ کرنے پر ناراضگی
حیدرآباد۔ 14 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں سرکاری فلاحی اسکیمات پر عوامی سوالات اور ناراضگی کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ اسمبلی حلقہ بیلم پلی کے رکن اسمبلی جی ونود کو پیر کو اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب وہ منڈل پریشد دفتر کے احاطہ میں شادی مبارک اور کلیانہ لکشمی اسکیمات کے تحت چیکس تقسیم کررہے تھے۔ اس دوران تانڈور اور قریبی دیہاتوں کی خواتین، کانگریس رکن اسمبلی کے پاس پہنچیں اور حکومت کے وعدوں پر راست سوالات کی بوچھار کردی۔ خواتین نے دریافت کیا کہ کلیان لکشمی اسکیم کے تحت دیا جانے والا ’ایک تولہ سونا‘ کہاں گیا اور مہالکشمی اسکیم کے تحت معلنہ ماہانہ 2500 روپے کی امداد اب تک کیوں فراہم نہیں کی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق رکن اسمبلی جی ونود نے خواتین کے سوالات کو نظرانداز کرکے میٹنگ چھوڑ دی جس کے بعد مقامی کانگریس قائدین نے خواتین کو سخت لہجے میں ڈانٹ ڈپٹ کی اور ان سے سوال کیا کہ آیا انہیں کسی جماعت بالخصوص بی آر ایس نے تو نہیں بھیجا ؟ یہاں تک کانگریس کہ مقامی قائدین نے انہیں فلاحی اسکیمات سے محروم کرنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ خواتین نے کانگریس قائدین کے اس رویہ پر ناراضگی ظاہر کرکے کہا کہ انتخابات کے دوران عوام سے بڑے وعدے کئے گئے مگر اقتدار میں آنے کے بعد ان پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹ حاصل کرنے منت و سماجت کی گئی اور اب سوال کرنے پر دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیم کے تحت شادی کے وقت ملنے والی امداد بچوں کی پیدائش کے باوجود نہیں مل رہی ہے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس واقعہ کے بعد مقامی سطح پر چہ میگوئیاں تیز ہوگئی ہیں اور عوام میں تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے جو آئندہ دنوں میں سیاسی منظر نامے پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔/k/b 2؍F