ارکان اسمبلی کے انحراف کے نام عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ، ٹی آر ایس قائدین کا ردعمل
حیدرآباد۔13جون(سیاست نیوز) کانگریس ارکان اسمبلی کے انحراف کے نام پر دستور کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ اپنی بقاء کیلئے احتجاج کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تلنگانہ راشٹر سمیتی رکن اسمبلی بی سمن‘ ارکان قانون ساز کونسل مسٹر سرینواس ریڈی اور مسٹر رامچندر راؤ نے آج پریس کانفرنس کے دوران کانگریس پارٹی قائدین پر الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں اپنی بقاء کی جدوجہد کو دستور کے تحفظ کا نام دے رہے ہیں۔ ان قائدین نے مسٹر ملو بھٹی وکرمارک پر الزام عائد کیا کہ وہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے کسی بھی منتخبہ عوامی نمائندہ کو انحراف کیلئے اکسایا نہیں ہے بلکہ کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی اپنی مرضی سے ہی تلنگانہ راشٹر سمیتی میں شمولیت اختیار کئے ہیں اور یہ کوئی انحراف نہیں ہے بلکہ کانگریس مقننہ پارٹی کا تلنگانہ راشٹر سمیتی مقننہ پارٹی میں انضمام ہے۔تلنگانہ راشٹر سمیتی قائدین نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ان ارکان اسمبلی کو راغب کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ یہ ارکان اسمبلی ریاستی حکومت کی کارکردگی سے متاثر ہوتے ہوئے پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ بی سمن نے کہا کہ کانگریس کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ انحراف یا دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنے والوں پر اعتراض کریں کیونکہ کانگریس نے سابق میں کئی اس طرح کی کاروائیاں کرتے ہوئے دیگر سیاسی جماعتو ںکے قائدین کو کانگریس میں شامل کروایا ہے۔ ٹی آر ایس قائدین نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں کانگریس اپنی بقاء کی جنگ کو دستور کے تحفظ کا نام دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور جمہوریت کا مذاق بنایا جا رہاہے ۔ کانگریس کے منتخبہ ارکان اسمبلی کو مکمل اختیار حاصل ہے اور انہوں نے قانون کے دائرہ میں موجود گنجائش کے مطابق ہی ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ 1970 میں تلنگانہ پرجا سمیتی کے ارکان پارلیمان کو کانگریس میں شامل کروانے کی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے ان قائدین نے کہا کہ کانگریس کا یہ قدیم کلچر ہے اور 1969کی تلنگانہ تحریک کو نقصان پہنچانے کیلئے کانگریس قائدین نے اس وقت 10ارکان پارلیمان کو جو تلنگانہ پرجا سمیتی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے انہیں کانگریس میں شامل کروایا ہے لیکن اب کانگریس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی تلنگانہ راشٹر سمیتی کی کارکردگی پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے عوام کی خواہش کا احترام کررہے ہیں انہیں دغا باز قرار دیا جا رہاہے۔