سرینگر ۔ /16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) احتجاجی مظاہرین نے سرینگر کے علاقے سورا میں احتجاجی جلوس نکالا جو نئی دہلی میں /5 اگست کو معلنہ تحریک کا ایک حصہ تھا ۔ پولیس نے سینکڑوں احتجاجیوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی جو شارع عام پر جلوس نکالنے کی کوشش کررہے تھے ۔ احتجاجیوں نے سنگباری ، دوکانوں کے اشتہاری بورڈس اور ٹین کی چادریں اپنے بچاؤ کیلئے استعمال کیں ۔ جبکہ پولیس نے ہجوم پر کئی گولیاں چلائیں ۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب کانگریس قائد راہول گاندھی اور قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد نے کانگریس پارٹی کے جموں میں جمعہ کے دن گرفتاری اور کشمیر شاخ کے صدر غلام احمد میر و سینئر قائد رویندر شرما کی گرفتاری کی مذمت کی ۔ جموں سے موصولہ اطلاع کے بموجب بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رام مادھو نے کہا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ دستور میں ’’پچھلے دروازے‘‘ سے اولین وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے داخل کی تھی ۔ رام مادھو نے کہا کہ یہ زندگی اور موت کا جموں و کشمیر کے عوام کیلئے سوال بن گیا تھا اور باقی ملک کے عوام کیلئے یہ ایک جذباتی مسئلہ تھا ۔ سرینگر سے موصولہ اطلاع کے بموجب وادی کشمیر میں صورتحال بتدریج معمول پر آرہی ہے ۔ ہفتہ کے دن وادی کے تمام ٹیلیفون لائینس دوبارہ کارکرد ہوجائیں گی ۔ آئندہ ہفتہ سے تمام اسکولس کھول دیئے جائیں گے ۔ چیف سکریٹری جموں و کشمیر نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کا انکشاف کیا ۔