دہلی کے جنتر منتر میں منعقدہ احتجاجی جلسہ سے خطاب
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اگست (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ کانگریس پارٹی سیکولرازم کا گلدستہ ہے۔ ہندو، مسلم ، سکھ ، عیسائی اس گلدستہ کے پھول ہے ۔ بی جے پی نفرت پھیلاتے ہوئے سیاست کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ مسلمانوں کا بہانہ کرتے ہوئے بی سی طبقات کو فراہم کئے گئے 42 فیصد تحفظات میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں۔ دہلی کی جنتر منتر پر پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے منعقدہ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ میں بھی ہندو ہوں، چیف منسٹر ریونت ریڈی بھی ہندو ہیں، ہندو بھگوان کی پوجا کرتے ہیں، مگر کبھی بھگوان کے نام پر ووٹ نہیں مانگتے اور نہ ہی کسی بھی مذہب اور طبقہ کے ساتھ ناانصافی کو پسند کرتے ہیں۔ مودی نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے گجرات میں مسلمانوں کو تحفظات فراہم کیا ہے۔ اترپردیش میں مسلمانوں کو تحفظات ہیں۔ ملک کی چند ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں مسلمانوں کو تحفظات حاصل ہورہے ہیں۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کو بی سی تحفظات کی فہرست میں شامل کرنے پر بی جے پی کے پیٹ میں جلن ہورہی ہے۔ مرکزی وزراء کشن ریڈی ، بنڈی سنجے ، تلنگانہ بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ کے علاوہ بی جے پی کے دوسرے قائدین تلنگانہ میں بی سی تحفظات کو فراہم کئے گئے 42 فیصد تحفظات کی فہرست میں مسلمانوں کو شامل کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے اس بل کو رکوانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہلی کے شہ نشین پر سماج کے تمام طبقات موجود ہیں۔ کانگریس پارٹی نے کسی کے لئے کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے۔ دہلی میں منعقدہ کانگریس کے احتجاجی پروگرام سے مودی حکومت کے زوال کا آغاز ہوگیا ہے ۔ کانگریس پارٹی کے اس احتجاج کی انڈیا اتحاد کی تمام جماعتوں نے تائید کی ہے ۔ چار ماہ قبل بی سی طبقات کا بل دہلی کو روانہ کیا گیا، مودی حکومت اس کو کچرے دان کی نذر کرچکی ہے۔ ذات پات کا سروے کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کی ملک کیلئے رول ماڈل پیش کیا ہے۔ 2