کانگریس پارٹی آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل واپسی کرنا چاہتی ہے ۔ وہ اپنے مسائل کو ختم کرتے ہوئے عوام کے درمیان پہونچنا چاہتی ہے ۔ پارٹی کوئی ایسی حکومت عملی پر کام کرنا چاہتی ہے جس سے عوامی سطح پر اس کی مقبولیت میںاضافہ ہو۔ عوام کی تائید اور ووٹ اسے دوبارہ ملنے لگیں۔ انتخابی شکستوں کا سلسلہ رک جائے اور اسے انتخابی کامیابی ملنے لگے ۔ کانگریس اس سلسلہ میںہر ممکن جدوجہد کر رہی ہے ۔ خاص طور پر ایسا لگتا ہے کہ سونیا گاندھی اس معاملے میںزیادہ سرگرم ہیں اور انہوں نے ہی پرشانت کشور کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ بات چیت کی نوعیت اس طرح سے بدلتی گئی کہ پرشانت کشور کو کانگریس میں شمولیت کی دعوت دیدی گئی ۔ پرشانت کشور نے بھی اس پر حامی بھرلی ہے ۔ اب اس پر کچھ دیگر امور ہیں جن پر بات چیت اور تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے ۔ کچھ قائدین کا کہنا ہے کہ پرشانت کشور کی کانگریس میںشمولیت تقریبا طئے شدہ امر ہے اور وہ کسی بھی وقت اس کا اعلان کرسکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پرشانت کشورنے کانگریس کے احیاء اور پارٹی میںنئی جان ڈالنے کیلئے ایک بلیو پرنٹ تیار کیا ہے اور اس پر سونیا گاندھی کے ساتھ مشاورت بھی ہوئی ہے ۔ یہ بلیو پرنٹ کچھ گوشوں نے حاصل کرلینے کا دعوی کیا ہے لیکن اس کی توثیق نہیںہوسکی ہے ۔ تاہم جو اطلاعات گشت کر رہی ہیں ان کے مطابق پرشانت کشور نے کانگریس کے مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدگی سے تیاری کی ہے اور انہوں نے جو بلیو پرنٹ تیار کیا ہے وہ متاثر کن ضرور کہا جا رہا ہے ۔ کانگریس میںکئی قائدین ایسے رہے ہیںجنہوں نے پرشانت کشور کو شامل کرنے کی مخالفت کی تھی تاہم اب وہی قائدین پارٹی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پرشانت کشور کی شمولیت سے اتفاق کرنے لگے ہیں۔ شائدا ن قائدین کو بھی یہ احساس ہوچکا ہے کہ پارٹی میں استحکام پیدا ہوگا تبھی ان کا سیاسی کیرئیر آگے بڑھ سکتا ہے ۔ پارٹی کی کمزوری سے کئی قائدین کے سیاسی کیرئیر پر سوالیہ نشان لگ گیا اور اسی سے ان کی خود کی عوامی مقبولیت کا بھی پتہ چل گیا ہے کہ وہ عوام پر کس حد تک اثر انداز ہوسکتے ہیں یا نہیں۔
جہاں تک پرشانت کشور کا سوال ہے اس بات سے انکا نہیںکیا جاسکتا کہ ان کا کامیابی کا تناسب بہت اچھا رہا ہے ۔ انہوں نے کئی سیاسی جماعتوںکے ساتھ مل کر کام کیا ہے ۔ 2014 میں خود نریندر مودی نے ان کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد بہار میں انہوں نے نتیش کمار کے ساتھ کام کیا ۔ انہوں نے مغربی بنگال میں ممتابنرجی کو طاقتور بی جے پی کی جارحانہ مہم کے باوجود کامیابی دلانے میں اہم رول ادا کیا ۔ آندھرا پردیش میں وہ وائی ایس جگن موہن ریڈی کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور ان کی پارٹی نے اقتدار حاصل کرلیا ہے ۔ ٹاملناڈو میں ڈی ایم کے کو اقتدار پر واپسی کروانے میں پرشانت کشور کا سرگرم رول رہا ہے ۔ ان حالات میں پرشانت کشور کی اگر کانگریس میںشمولیت ہوتی ہے تو اس سے مثبت اثر پڑسکتا ہے ۔ تاہم اس بات پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ کانگریس میں وہ ناراض قائدین جو کسی بھی صورتحال میںمطمئن نہیں ہوتے انہیں پہلے بیان بازیوں سے روکا جائے ۔ جو قائدین پارٹی کے تعلق سے فکرمند ہیںلیکن کچھ نہیںکرسکتے انہیں بھی اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ۔ پارٹی قائدین میں جو تشویش ہے کہ پرشانت کشور کسی ایک پارٹی تک خود کو محدود نہیںرکھ سکتے وہ واجبی تشویش ہے ۔ پرشانت کشور نے اپنے سیاسی سفر کا جے ڈی یو سے آغاز بھی کیا تھا لیکن وہ نتیش کمار سے پھر دور ہوگئے اور اپنا آئی پی اے سی کا کام جاری رکھا تھا ۔
پرشانت کشور فی الحال تلنگانہ میںزیادہ سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے پرشانت کشور کی خدمات حاصل کی ہے جب کہ تلنگانہ میںکانگریس پارٹی اپنے احیاء کی سب سے زیادہ شدت سے جدوجہد کر رہی ہے ۔ کانگریس اور ٹی آر ایس ایک دوسرے کے کٹر مخالف ہیں۔ ایسے میں اگر پرشانت کشور کانگریس میںشامل ہوجاتے ہیں تو پھر وہ ٹی آر ایس کیلئے کام نہیںکرپائیں گے ۔ٹی آر ایس کیلئے کام کرتے ہوئے کانگریس میں ان کی شمولیت بے معنی ہوگی ۔ اس صورتحال میں جو قائدین پرشانت کشور کے تعلق سے اندیشوں کا اظہار کر رہے تھے وہ درست کہے جاسکتے ہیں۔ کانگریس قیادت کو اس تعلق سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل سارے حالات کو ذہن میں رکھتے ہوئے غور کرنا چاہئے ۔