انضمام کے خلاف درخواست کی آج ہائیکورٹ میں سماعت ، حلیف جماعت مجلس کو اپوزیشن کا عہدہ مضحکہ خیز
حیدرآباد ۔10جون ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں جمہوریت کے قتل کے خلاف کانگریس پارٹی نے کل 11جون کو تمام ضلع کلکٹریٹس کے روبرو احتجاجی دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ کانگریس کے 12ارکان اسمبلی کے ٹی آر ایس میں انضمام کے خلاف پارٹی نے ریاست گیر سطح پر جمہوریت بچاؤ کے عنوان سے ایجی ٹیشن کی منصوبہ بندی کی ہے ۔ صدر پردیش کانگریس اُتم کمار ریڈی نے بتایا کہ سی ایل پی کے انضمام کے خلاف ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست کی کل منگل کو سماعت ہوگی ۔انہوں نے ہائیکورٹ میں انصاف کی امید ظاہر کی اور کہا کہ انصاف نہ ملنے پر سپریم کورٹ سے رجوع ہوں گے ۔ اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کا وقت مانگا گیا ہے ۔ کانگریس ارکان اسمبلی کی خریدی اور اسپیکر کے فیصلے کے خلاف نمائندگی کی جائے گی ۔ اُتم کمار ریڈی نے حکومت کی حلیف جماعت مجلس کو اصل اپوزیشن کا درجہ دینے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حلیف جماعت کس طرح مین اپوزیشن ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجلس نے تشکیل تلنگانہ کی مخالفت کی تھی ۔ ایسی پارٹی کو قائد اپوزیشن کا عہدہ کس طرح دیا جاسکتا ہے ۔ اسمبلی میں حکومت کے خلاف ہر آواز کو چیف منسٹر کے سی آر کچلنا چاہتے ہیں ، اس لئے حلیف جماعت کو مین اپوزیشن کا درجہ دیا جارہا ہے ۔ اُتم کمار ریڈی نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ کانگریس ارکان اسمبلی کی خریدی پر لب کشائی کریں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے بھوک ہڑتالی کیمپ پر حملہ کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا کو گرفتار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 88 ارکان اسمبلی رکھنے کے باوجود چیف منسٹر نے کانگریس ارکان اسمبلی کو خریدا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسمبلی میں اپوزیشن کو دیکھنا نہیں چاہتے ۔ اسپیکر کے فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے اُتم کمار ریڈی نے کہا کہ منحرف ارکان کے خلاف کارروائی سے متعلق نمائندگیوں پر فیصلہ کئے بغیر انضمام کا اعلان کردیا گیا ۔ اسی دوران سابق ایم ایل سی ناگیشور راؤ نے نمس پہنچ کر بھٹی وکرامارکا سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہاکہ مجلس حکومت کی حلیف جماعت ہے اسے اہم اپوزیشن کا موقف مضحکہ خیز ہے ۔
