شہر کے 24 حلقہ جات میں رائے دہندوں تک پہونچنے کی حکمت عملی
حیدرآباد۔12۔نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کے حلقہ جات اسمبلی میں کانگریس کو حاصل ہونے والی کامیابی کو دیکھتے ہوئے بھارت راشٹرسمیتی نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے شہری علاقوں کے رائے دہندوں کو متوجہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود 24 حلقہ جات اسمبلی میں کانگریس اور بھارت راشٹرسمیتی رائے دہندوں کو راغب کرنے کے لئے کافی محنت کررہی ہیں ۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد کے ان 24حلقہ جات اسمبلی میں کانگریس زیادہ سے زیادہ حلقہ جات اسمبلی پر اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے محنت کر رہی ہے اور بی آر ایس نے جی ایچ ایم سی حدود میں ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کے پروگرامس کا فیصلہ کرتے ہوئے ان 24حلقہ جات اسمبلی میں انتخابی مہم کو تیز کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں جبکہ کانگریس نے بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں موجود 24 حلقہ جات اسمبلی میں انتخابی مہم میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ ان حلقہ جات اسمبلی میںمرکزی قائدین کے علاوہ پڑوسی ریاست کے بیشتر وزراء کو میدان میں اتارنے کے اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ حلقہ اسمبلی خیریت آباد‘ عنبر پیٹ‘ ملک پیٹ ‘ نامپلی ‘ سکندرآباد کنٹونمنٹ ‘ سکندرآباد‘ صنعت نگر‘ ایل بی نگر‘ ملکاجگری‘مشیر آباد‘ چارمینار کے علاوہ دیگر میں کانگریس نے انتخابی مبصرین کو ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے انہیں ان حلقہ جات اسمبلی کے عوام تک رسائی حاصل کرنے کے اقدامات کو یقینی بنانے کی تاکید کی ہے۔ذرائع کے مطابق شہر حیدرآباد میں دیوالی تہوار کے ساتھ ہی دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں انتخابی مہم تیز ہونے کے امکانات ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں دیہی علاقوں اور اضلاع میں کانگریس کو زبردست عوامی تائید حاصل ہونے لگی ہے اور اضلاع میں کانگریس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے ساتھ ہی بی آر ایس نے شہری علاقوں تک اپنی انتخابی مہم کو محدود کرنے اور زیادہ سے زیادہ رائے دہندوں تک پہنچتے ہوئے انہیں راغب کرنے کی کوشش کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریاستی وزیر و چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے فرزند مسٹر کے ٹی رامار اؤ نے دونوں شہروں مجلس کے حلقہ جات اسمبلی کے سواء تمام حلقہ جات میں انتخابی مہم چلانے کے فیصلہ کیا ہے۔دونوں سیاسی جماعتوں کانگریس اور بی آر ایس شہری رائے دہندوں کو راغب کرنے کی کوشش کے دوران ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن بی آر ایس قائدین انتخابات سے قبل آخری ہفتہ کے دوران کانگریس کی مہم کے متعلق فکر مند ہے کیونکہ شمالی ہند کی ریاستوں میں جہاں ریاستی اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں ان کا عمل ختم ہونے کے بعد تمام قائدین کا رخ تلنگانہ ہوگا اور وہ اگر انتخابات سے قبل تلنگانہ میں موجود رہتے ہیں تو ایسی صورت میں بی آر ایس کو سخت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔