کبھی چیف منسٹر کبھی منگیتر پریشان تھے اس ’ سنگھم ‘ سے

   

ماں کو قتل کا شبہ ، سڑک حادثہ یا سازش ، تجسس برقرار
محکمہ پولیس کے بارے میں بے شمار باتیں کی جاتی ہیں جن میں منفی بھی ہوتے ہیں اور مثبت بھی ۔ اسی طرح تمام پولیس اہلکار ظالم و جابر رشوت خور ، عیاش و بدنام نہیں ہوتے جس طرح عام لوگوں میں اچھے اور برے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ پولیس اہلکاروں میں بھی اچھے آفیسر ہوتے ہیں جو اپنی فرض شناسی کے ذریعہ معاشرہ کو جرائم سے پاک رکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں ۔ جس طرح انڈے کے ایک ٹرے میں اکثر انڈے اچھے ہوتے ہیں کچھ گندے انڈے بھی ہوتے ہیں اسی طرح محکمہ پولیس میں بھی اچھے عہدہ دار بھی اچھے کاموں کے ذریعہ اپنے محکمہ کی نیک نامی میں اضافہ کرتے ہیں اور کچھ گندے انڈوں کی طرح بھی ہوتے ہیں ۔ بہرحال ہم آپ کو آج ایک ایسی خاتون پولیس آفیسر کے بارے میں بتاتے ہیں جو 16 مئی کی درمیانی شب ایک سڑک حادثہ میں اپنی زندگی سے محروم ہوگئی ( شائد اسے ایک سوچے سمجھے منصوبہ و سازش کے تحت قتل کردیا گیا جیسا کہ اس کی ماں اور خالہ الزام عائد کررہے ہیں ) ہم بات کررہے ہیں شمال مشرقی ریاستوں میں سے ایک ریاست آسام ضلع ناگاؤں کی ایک لیڈی سب انسپکٹر پولیس جنمونی رابھا (Janmoni Rabh) کی چونکہ وہ مجرمین کے خلاف سخت کارروائی کرتی تھی ۔ اس لیے بہت جلد ریاست آسام میں لیڈی سنگھم کے نام سے مشہور ہوگئی ۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کئی ایک تنازعات میں گھری ہوئی تھی ۔ حد تو یہ ہے کہ اس کی موت سے ایک دن قبل ہی اس لیڈی سنگھم کے خلاف ایک ایف آئی آر نمبر 0183/2023 درج کی گئی جس میں انڈیا ٹو ڈے کے مطابق اس پر مجرمانہ سازش ، ڈکیتی ، چوری ، اقدام قتل ، غیر قانونی طور پر کسی کو حراست میں رکھنے ، رقم کی جبری وصولی جیسے الزامات عائد کئے گئے تھے ۔ انڈیا ٹو ڈے نے ریاست آسام کے ڈائرکٹر جنرل پولیس گیانندر پرتاپ سنگھ کے حوالے سے بتایا اس کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ جنمونی رابھا کے خلاف ایک خاتون کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ لیڈی سنگھم کی سڑک حادثہ میں موت سے ایک رات قبل آسام پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے سرکاری کوارٹر پر دھاوا کر کے تقریبا ایک لاکھ روپئے ضبط کئے تھے ۔ اس سلسلہ میں لیڈی سنگھم کی خالہ سبرنا بوڈو کا کہنا ہے کہ منگل کی رات یعنی لیڈی پولیس سب انسپکٹر کی سڑک حادثہ میں موت یا قتل سے چند گھنٹوں قبل یہ دھاوا کیا گیا ۔ اس وقت لیڈی سنگھم کی ماں سمترا رابھا بھی موجود تھیں ۔ خالہ کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے جو رقم ضبط کی وہ سمترا رابھا نے پولٹری اور خنزیروں کی فارمنگ کے کاروبار سے کمائی تھی ۔ سمترا رابھا کا الزام ہے کہ ان کی بیٹی کو منصوبہ بند انداز میں قتل کیا گیا اور اس میں مجرمین کا کوئی نامعلوم ریاکٹ ملوث ہے ۔ ان کے الزام کو اس لیے بھی تقویت حاصل ہوتی ہے کہ ایک طرف چند گھنٹے قبل پولیس جنمونی رابھا کے سرکاری کوارٹر پر دھاوا کرتی ہے ۔ دوسری طرف اس کے چند گھنٹوں بعد یعنی رات کے دیڑھ دو بجے جنمونی سادہ لباس میں اپنی کار میں سفر کرتی ہے اور پھر اترپردیش نمبر والا ایک کنٹینر ٹرک سامنے سے آتا ہے اور اسے ٹکر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ہلاک ہوجاتی ہے ۔ کچھ دیر بعد پولیس کو اس حادثہ کی اطلاع ملتی ہے اور پولیس کی پٹرول پارٹی وہاں پہنچ کر لیڈی سب انسپکٹر کو ہاسپٹل منتقل کرتی ہے جہاں اسے ڈاکٹرس مردہ قرار دیتے ہیں ۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ کس طرح ایک سنسنی خیز فلم کی کہانی محسوس ہوتی ہے ۔ واضح رہے کہ جنمونی رابھا کئی ایک تنازعات کا شکار تھی حد تو یہ ہے کہ خود چیف منسٹر آسام ہنمنت بسوا شرما کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ لیڈی سنگھم کے ہاتھوں ماہی گیروں کی گرفتاری اور بی جے پی ایم ایل اے امیا کمار بھویان سے لیڈی سب انسپکٹر کی بحث و تکرار اور الجھ پڑنے سے وہ برہم ہوگئے تھے اور یہاں تک کہا تھا کہ ایک ایم ایل اے کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ چیف منسٹر دراصل اس لیے ناراض تھے کہ لیڈی سنگھم نے فون پر بی جے پی ایم ایل ایز کی ایسی تیسی کردی تھی اور ٹیلی فون پر دونوں کے درمیان ہوئی وہ بات چیت سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی ۔ جنمونی رابھا لیڈی سنگھم کے نام سے اس لیے بھی مشہور ہوئی تھی کیوں کہ اس نے اپنے ہی منگیتر کو دھوکہ دہی کے ایک کیس میں گرفتار کیا اور بعد میں اس کیس میں اس کی بھی گرفتاری عمل میں آئی اور ایک عدالت نے اسے عدالتی تحویل میں دیا تھا ۔ جس کے ساتھ ہی جنمونی کو ملازمت سے معطل کیا گیا تھا ۔ منگل کی درمیانی شب سوربھوگیا گاوں کے جھٹکل بندھا پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آئے اس واقعہ پر مختلف گوشوں اور خود اس کے ارکان خاندان شکوک و شبہات کا اظہار کررہے ہیں ۔ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ ایک سازش کے تحت لیڈی سنگھم کا قتل کروایا گیا ہے ۔ یہ بھی انکشاف ہوا کہ جنمونی رابھا کے خلاف رقم کی زبردستی وصولی کا ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا اور ماضی میں بھی بدعنوانی کے مقدمہ کا اندراج عمل میں لایا گیا تھا ۔ اب ریاستی ڈی جی پی دعویٰ کررہے ہیں کہ جنمونی رابھا کے خلاف درج ایف آئی آر اور پھر سڑک حادثہ میں اس کی مشتبہ موت کی تحقیقات سی آئی ڈی کے حوالے کردی گئی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس تحقیقات سے حقیقت سامنے آئے گی یا پھر ’ اوپر سے حکم ہے ‘ کا بہانہ بناکر تحقیقاتی رپورٹ کو مجرمانہ سازش کی چتا پر رکھ کر نذر آتش کردیا جائے گا اسی طرح جس طرح جنمونی کی چتا کو آگ لگائی گئی ۔۔