کتہ گوڑم بھدرادری میں مسجد کی تعمیر کی اجازت

   

محکمہ جنگلات کی جانب سے مسجد کو شہید کرنے کے بعد متبادل جگہ کی فراہمی، مقامی مسلمانوں کی مکمل تائید
حیدرآباد۔/23جولائی، ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ جنگلات کی جانب سے کتہ گوڑم بھدرادری ضلع میں شہید کی گئی مسجد کا مسئلہ حل کردیا گیا ہے اور متبادل جگہ پر جہاں فی الحال مصلی نماز ادا کررہے تھے وہاں مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ریاستی وزیر داخلہ جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے محکمہ جنگلات کی کارروائی کا جائزہ لینے کے بعد مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کی اجازت کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ 11 جولائی کو محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے جنگلاتی علاقہ ساراپکا فاریسٹ ریزرو منوگورو چوراہا پر واقع ایک مسجد کو شہید کردیا تھا جس کے بعد مقامی مسلمان مشتعل ہوگئے تھے۔ جناب محمود علی نے کہا کہ محکمہ جنگلات کی اراضی پر موجود مسجد کو شہید کردیا گیا تھا لیکن مقامی مسلمانوں نے مسجد کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہوئے متصل اراضی پر نمازوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا جس کی حکومت اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے اجازت دی گئی تھی۔ جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ کتہ گوڑم میں پیش آئے اس واقعہ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد جس مقام پر نماز ادا کی جارہی ہے اسی جگہ کو مسجد کیلئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مقامی مسلمانوں کو اس جگہ پر مسجد کی تعمیر کی اجازت دینے کی ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کسی بھی مذہب یا طبقہ کی دلآزاری کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کے جذبات کو مجروح کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ کتہ گوڑم میں جنگلاتی علاقہ میں شہید کی گئی مسجد قومی شاہراہ پر تھی جس کے نتیجہ میں حکومت نے متبادل جگہ کی نشاندہی کرتے ہوئے نماز ادا کئے جانے والے مقام پر ہی مسجد کی تعمیر کی اجازت دے دی۔ یہ فیصلہ کتہ گوڑم کے سرکردہ مسلم ذمہ داروں سے مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے جسے مقامی مسلمانوں کی مکمل تائید حاصل ہے۔ جناب محمود علی نے مزید کہا کہ انہوں نے کتہ گوڑم بھدرادری کے ضلع کلکٹر سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے اور مسجد کیلئے فوری جگہ مختص کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے اور مسجد کو شہید کرنے پر سڑک پر نماز ادا کرنے والے مسلم نوجوانوں کے خلاف فاریسٹ ایکٹ اور دیگر دفعات کے تحت درج کئے گئے مقدمات سے دستبرداری اختیار کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کو فی الفور واپس لینے کیلئے موثر اقدامات کرنے کیلئے ہدایت جاری کی گئی ہے۔