ویرساورکر کو ایک انقلابی قرار دیتے ہوئے کالا پانی کی قید میں انگریزوں کے تشدد کو جھیلنے کا دعویٰ
بنگلورو : کرناٹک حکومت کے اشتہار سے ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا نام ہٹانے پر کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے درمیان تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے ۔ کرناٹک کانگریس نے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر بسواراج بومئی نے مسٹر نہرو کے مداح اپنے والد ایس آر بومئی اور ان کے پہلے سیاسی سرپرست ایم این رائے کی توہین کی ہے ۔ دوسری جانب بی جے پی کا کہنا ہے کہ حکومت نے اسکیچ میں مہاتما گاندھی، رانی لکشمی بائی اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ نہرو کی تصویر بھی شامل کی ہے اہم اپوزیشن جماعت بے کار کی باتیں اڑا رہی ہے ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ایم پی جے رام رمیش نے ٹویٹ کیاکہ نہرو اس طرح کی تنگ نظری سے بچے رہیں گے ۔ اپنی کرسی بچانے کے لیے بے چین وزیر اعلیٰ کرناٹک جانتے ہیں کہ انھوں نے جو کچھ کیا وہ ان کے والد ایس آر بومئی اور ان کے والد کے پہلے سیاسی سرپرست ایم این کی توہین ہے . دونوں عظیم نہرو کے بڑے مداح اور بعد میں ایک دوست بھی تھے ۔ یہ قابل رحم ہے ۔ کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے ٹویٹ کیاکہ مسٹر بومئی کو اس ‘توہین’ کے لیے معافی مانگنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کو نہرو سے الرجی ہے کیونکہ ان کی حکومت نے گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر پابندی لگا دی تھی۔ انہوں نے کہا، “یاد رہے کہ نہرو نے اپنی زندگی کے نو سال جیل میں گزارے تھے ۔ وہ ساورکر کی طرح بزدل نہیں تھے ۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر موہن کرشنا نے کہا، ‘‘ان کی (نہرو) تصویر پہلے سے ہی مہاتما گاندھی، رانی لکشمی بائی اور دیگر لیڈروں کے ساتھ اسکیچ میں موجود ہے ۔ اپوزیشن عوام کو کچھ دکھا کر اسے اڑانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یہ سچ نہیں ہے . خیال ر ہے کہ ویر ساورکر کی تصویر سرکاری اشتہار میں شامل ہے ۔ انہیں ایک انقلابی ساورکر بتاتے ہوئے اشتہار میں لکھا ہے ، “ونائک دامودر ساورکر نے انقلابی طریقوں سے مکمل آزادی حاصل کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کئی کتابیں شائع کیں۔ انہیں انڈمان اور نکوبار میں قید کیا گیا اور انہیں انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اشتہار میں لکھا گیا، ‘‘ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ لاکھوں ہندوستانیوں کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ آج جب ہم ہندوستان کی آزادی کی 76 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، ہمیں انہیں یاد کرنا چاہئے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنا چاہئے اور ان کی بے لوث حب الوطنی کی تقلید کرنے کا عہد کرنا چاہئے ۔ یہ اشتہار ہر گھر ترنگا مہم کے تحت شائع کیا گیا تھا۔ اس معاملے نے ایک آن لائن تنازعہ کو جنم دیا جب وزیر اعظم نریندر مودی نے 2 اگست کو سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ آزادی کے 75 ویں سال کے موقع پر اپنی ڈسپلے تصویروں کو ترنگے میں تبدیل کریں۔