کرناٹک میں مسلمانوں کی سیاسی بصیرت سے تلنگانہ میں ہلچل

   

ملت سے ہمدردی کے نام پر حکومت کی مدد کی کوششوں کا آغاز ۔ نام نہاد دانشور بھی شامل
حیدرآباد۔22 ۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) کرناٹک نتائج کے بعد تلنگانہ میں بی آر ایس کو شکست کے خوف اور مسلمانوں کی حکمت عملی سے پریشان بعض تنظیموں کے ذمہ داروں اورغیرسرکاری تنظیموں کے کارکنوں کے ذریعہ تلنگانہ میں مسلم ووٹ کو منقسم رکھنے کی کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے اور یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ بی آر ایس کے ساتھ رہنے میں مسلمانوں کی عافیت ہے جبکہ گذشتہ 9برسوں میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں سے جو وعدے کئے ہیں ان کو پورا کرنے میں وہ ناکام ہیں ۔ بعض گوشوں سے اجلاسوں کے انعقاد اور نام نہاد منظم تنظیموں کی سرپرستی میں عوام کو گمراہ کیا جا رہاہے ۔ کرناٹک میں مسلم ووٹ کے متحدہ استعمال نے نہ صرف بی جے پی کو شکست سے دوچار کیا بلکہ کانگریس کو مستحکم کرنے کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی حکمت عملی کو دیگر ریاستوں بالخصوص تلنگانہ میں اختیار کرنے سے خوفزدہ بی آر ایس قائدین بالخصوص مسلمانوں کا درد رکھنے کی دعویدار تنظیموں اور نام نہاد دانشور یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ تلنگانہ میں ووٹ کی تقسیم پر بی جے پی کو فائدہ ہوگا لیکن حکومت کی ناکامیوں اور مسلمانوں سے وعدوں سے متعلق سوال پر ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ بی آر ایس کو موقع دیا جانا چاہئے لیکن یہ لوگ دراصل اپنے عہدوں کو بچانے اور قابض رہنے ان تنظیموں کا استعمال کررہے ہیں انہیں قوم کی فکر نہیں ہے ۔ مذہبی جماعتوں کی نگرانی میں ووٹ کی تقسیم سے بچانے کے نام پر مخالف کانگریس پروپگنڈہ شروع کر چکے ہیں اور ایک ہفتہ میں 4 اجلاس ہوچکے ہیں۔ کانگریس کی مخالفت کے مشن کو سرکاری مدد سے اجلاسوں کو کامیاب کرنے کوشاں ہیں اور نام نہاد دانشوروں کی شرکت یقینی بناکر باور کروایا جارہا ہے کہ یہ سیاسی نہیں بلکہ مفکرین کا اجلاس ہے جو کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کی حکمت عملی تیار کرنے منعقد کیا جا رہاہے ۔ م