بنگلور: کرناٹک کے وزراء اور ان کے حامیوں نے مجوزہ وقف ترمیمی بل 2024 کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پیر کو بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عیدالفطر کی نماز ادا کی۔ قبل ازیں مسلم پرسنل لا بورڈ نے ملک بھر کے مسلمانوں سے جمعۃ الوداع اور عیدالفطر کی نماز کے موقع پر بازوؤں پر سیاہ پٹی باندھ کر وقف ترمیمی بل کے خلاف خاموش احتجاج کرنے کی اپیل کی تھی۔کرناٹک کے وزیر برائے وقف اور سیاحت بی زیڈ ضمیر احمد خان اور وزیر میونسپل ایڈمنسٹریشن اور حج رحیم خان نے سینکڑوں مسلمانوں کے ساتھ بنگلور اور بیدر میں نماز الفطر ادا کی، اس دوران انہوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھی تھیں۔ بنگلور میں ضمیر احمد خان نے بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر چامراج پیٹ کے میدان میں عید کی نماز ادا کی۔ انہوں نے مرکز کے مجوزہ بل کے خلاف خاموش احتجاج کیا۔نماز کی ادائیگی کے بعد وزیر ضمیر احمد خان نے عوام کو یوگادی اور عیدالفطر کی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ ”جب ہندو بھائی نئے سال کے آغاز کے طور پر یوگادی کا تہوار منائے رہے ہیں، اس دوران مسلمان رمضان کے روزے رکھنے کے بعد عید کی خوشیاں منارہے ہیں۔ انہوں نے تمام برادریوں کو اپنی تہوار کی مبارکباد دی۔ انہوں نے اس موقع رپ فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیا۔یہ احتجاج مجوزہ وقف بل کے خلاف ملک گیر خاموش مظاہرے کا حصہ تھا۔ وزیر خان نے کہا کہ ہندوستان بھر کے مذہبی رہنماؤں نے لوگوں سے بل کی مخالفت کے لیے سیاہ پٹیاں باندھنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہاکہ ”وقف ایکٹ حال ہی میں پیش نہیں کیا گیا تھا؛ یہ برطانوی دور کا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مرکز اس نئی ترمیم کو متعارف نہ کرے۔ کرناٹک حکومت پہلے ہی اس کے خلاف موقف اختیار کر چکی ہے اور گزشتہ قانون ساز اجلاس میں، ہم نے اس کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔”