انتخابات کے پیش نظر فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے بی جے پی حکومت پر اپوزیشن کا الزام
حیدرآباد۔29 جولائی (سیاست نیوز) پڑوسی ریاست کرناٹک میں انتخابات کے پیش نظر فرقہ وارانہ تعصب کو ہوا دی جانے لگی ہے اور اقلیتوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا جانے لگا ہے۔ چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی نے گذشتہ یوم بی جے پی یوتھ کارکن کے قتل کے واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر ان کی حکومت کرناٹک میں یوگی آدتیہ ناتھ کے طرز کارکردگی پر عمل کرے گی۔چیف منسٹر کے اس ردعمل کے بعد ریاستی وزیر سی این اشوتھ نارائن نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ حکومت کرناٹک یوگی ماڈل اختیار نہیں کرے گی بلکہ ملک میں علحدہ ماڈل پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قتل میں ملوث افراد کے پولیس کو انکاؤنٹر کرنے چاہئے ۔ چیف منسٹر بومائی اور ریاستی وزیر اشوتھ نارائن کے اس بیان کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ کرناٹک میں انتخابات سے قبل کس طرح کا ماحول تیا رکرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بی جے پی یوتھ ونگ لیڈر کے قتل کے بعد بومائی نے کہا تھا کہ حکومت کرناٹک یوگی ماڈل اختیار کرتے ہوئے فرقہ وارانہ نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کو سخت کرے گی اور ان لوگوں کے مکانات کو منہدم کردیا جائے گا جس طرح سے اترپردیش میں کیا جا رہاہے۔ چیف منسٹر کرناٹک بومائی نے قتل کے مقدمہ کو این آئی اے کے حوالہ کرتے ہوئے جو پیغام دینے کی کوشش کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت ہی کرناٹک میں فرقہ وارانہ ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریاستی وزیر اشوتھ نارائن کے بیان کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب کرناٹک میں اترپردیش کی طرح حالات پیدا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی جائے اور آئندہ انتخابات میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دیتے ہوئے عوام میں تفرقہ پیدا کیا جائے ۔ کرناٹک میں حالات مسلسل مخالف اقلیت ہوتے جا رہے ہیں اور گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران 2مسلم نوجوانوں محمد مسعود اور محمد فاضل کے قتل کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں اور ان دونوں واقعات کے متعلق کہا جا رہاہے کہ دونوں مسلم نوجوانوں کو ہجومی تشدد کے طرز کے حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کرناٹک میں اقتدار دوبارہ حاصل کرنے کے لئے جو ماحول تیار کر رہی ہے اس پر اپوزیشن جماعتو ںکی جانب سے تنقید کرتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ بی جے پی ریاست میں ماحول کو کشیدہ کرنے اور اترپردیش طرز حکمرانی اور ’اترپردیش ماڈل‘ کے نام پر دہشت پھیلاتے ہوئے اقلیتوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔برسر اقتدار جماعت کے قائدین اور وزراء کی جانب سے جنوبی ہند میں کرناٹک میں اتر پردیش ماڈل حکمرانی کا تذکرہ کرتے ہوئے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ملک کی بیشتر تمام ریاستوں میں اترپردیش میں جاری غیر قانونی طرز حکمرانی کی شدت سے مخالفت کی جا رہی ہے۔م