کرناٹک نتائج سے تلنگانہ میں بی جے پی کا کیڈر مایوس ، آپریشن کمل شروع کرنے کا فیصلہ

   

پارٹی قائدین کے اختلافات سے قیادت فکر مند ، مودی کی کامیابی اور کے سی آر کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 16 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : کرناٹک میں شکست کے بعد تلنگانہ بی جے پی کیڈر میں مایوسی پیدا ہوگئی ہے ۔ دوسری طرف پارٹی قائدین میں اختلافات و گروپ بندیاں عروج پر پہونچ گئی جس سے فکر مند بی جے پی قومی قیادت نے تلنگانہ بی جے پی قائدین کو فوری دہلی طلب کرلیا اور تلنگانہ میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے مشاورت کا آغاز کردیا ہے ۔ نریندر مودی کے بحیثیت وزیراعظم 9 سال کی تکمیل پر بی جے پی سارے ملک میں مودی حکومت کے کارناموں کو عوام میں پیش کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے اور ساتھ ہی تلنگانہ میں کے سی آر حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرنے 18 مئی سے ایک ماہ خصوصی مہم شروع چلا کر بی جے پی کے مایوس کیڈر میں جوش و خروش بھرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مودی کی کامیابیوں اور کے سی آر کی ناکامیوں کو عوام لیجانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ 2018 کے انتخابات میں بی جے پی کو کرناٹک میں واضح اکثریت نہیں ملی تاہم 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کرناٹک کی جملہ 28 لوک سبھا حلقوں میں بی جے پی نے 24 حلقوں میں کامیابی درج کی تھی اس کو پارٹی کارکنوں اور عوام میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کرناٹک میں ناکامی کے بعد بی جے پی جنوبی ہند میں شناخت برقرار رکھنے تلنگانہ پر ساری توجہ مرکوز کرچکی ہے ۔ دوسری پارٹی کے قائدین کو بی جے پی میں شامل کرنے ’ آپریشن کمل ‘ پر توجہ دے رہی ہے اور اس پر تبادلہ خیال کیلئے ایٹالہ راجندر کو دہلی طلب کرلیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی بی جے پی ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی میں بھی اتحاد کا فقدان ہے ۔ قائدین میں تال میل نہیں ہے ۔ بی جے پی کے پروگرامس ہورہے ہیں مگر پارٹی عوام سے قریب نہیں ہورہی ہے ۔ اس کا جائزہ لیا گیا جنوبی ہند میں تلنگانہ ایک امید ہے اس کو نہ گنوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔۔ ن