کے سی آر کو بی جے پی کی شکست کا غم ، معلق اسمبلی کی سازش ناکام، تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار یقینی
حیدرآباد۔18۔مئی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر کو کرناٹک میں کانگریس کی شاندار کامیابی ہضم نہیں ہورہی ہے۔ وہ کرناٹک میں بی جے پی حکومت دیکھنا چاہتے تھے اور جنتا دل سیکولر کے ذریعہ معلق اسمبلی کی سازش کو عوام نے ناکام کردیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کرناٹک کے نتائج کے بارے میں کے سی آر بی جے پی کی زبان میں بات کر رہے ہیں اور انہوں نے بنڈی سنجے کے موقف کی تائید کی ۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ اور اسمبلی کے اجلاس میں کے سی آر کی تقریر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے سی آر نے کہا تھا کہ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کو اہمیت دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی اہم کامیابی نہیں ۔ ریونت ریڈی نے کے سی آر کے بیان کو بی جے پی کی ترجمانی سے تعبیر کیا اور کہا کہ نتائج کے فوری بعد بنڈی سنجے نے کہا تھا کہ تلنگانہ پر کرناٹک کے نتائج کا اثر نہیں پڑے گا ۔ اسی بات کو کے سی آر نے پارٹی اجلاس میں دہرایا ہے۔ ملک بھر میں کرناٹک عوام کے فیصلہ کی تائید کی جارہی ہے لیکن کے سی آر کو بی جے پی کی شکست کا غم ہے۔ بی آر ایس کے قیام کے وقت کے سی آر نے ملک بھر میں مودی کی مخالفت کا نعرہ دیا تھا لیکن کرناٹک چناؤ کے بعد ان کا مودی کی تائید میں بیان دہری پالیسی کو بے نقاب کرتا ہے۔ تلنگانہ عوام کو کے سی آر سے چوکس رہنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جنتا دل سیکولر کی مدد کرتے ہوئے کے سی آر نے کئی سو کروڑ روپئے خرچ کئے تاکہ معلق اسمبلی تشکیل پائے اور بی جے پی اور جے ڈی ایس کی حکومت وجود میں آئے لیکن یہ سازش ناکام ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کرناٹک میں مودی کی شکست کو غیر اہم بتانے کی کوشش کر رہے ہیں اور مودی کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے عوامی فیصلہ کی توہین کی ہے۔ جس طرح کرناٹک میں 40 فیصد کمیشن کی بی جے پی حکومت کو عوام نے مسترد کردیا ، اسی طرح تلنگانہ میں 30 فیصد کمیشن والی کے سی آر حکومت کو عوام شکست دینے کیلئے تیار ہیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی اور کے سی آر ایک ہیں اور نریندر مودی اور کے سی آر میں کوئی فرق نہیں ۔ کے سی آر دراصل بی جے پی کی مخالفت کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ کرناٹک میں بی جے پی کو شکست کے بعد کے سی آر کو تلنگانہ میں اپنی شکست کا یقین ہوچکا ہے ۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار یقینی ہے اور مرکز میں کانگریس کی حکومت وجود میں آئے گی ۔ ترقی سے متعلق چھتیس گڑھ ماڈل پر تلنگانہ میں عمل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو امید تھی کہ کرناٹک کے نتائج پر کے سی آر کانگریس اور سونیا گاندھی کی ستائش کریں گے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کے سی آر کو بی جے پی کی شکست کا غم کھائے جارہا ہے۔ کرناٹک میں مودی اور امیت شاہ نے 20 دن تک انتخابی مہم چلاتے ہوئے فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دی۔ مسلم تحفظات کی مخالفت ، فرقہ وارانہ فسادات کی دھمکی اور مختلف ذات پات میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ پریس کانفرنس میں محمد علی شبیر ، وی ہنمنت راؤ ، پونم پربھاکر اور دیگر قائدین موجود تھے۔ر