کرناٹک کابینہ میں توسیع ملتوی ‘ فی الحال میرا ایجنڈہ توسیع نہیں ۔ چیف منسٹر شیوکمار کا اعلان

,

   

بنگلورو7 ستمبر (یو این آئی) چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیواکمار نے متوقع کابینہ میں توسیع پر فی الحال روک لگا دی ہے ، جس سے وزارتی عہدوں کیلئے کوشاں کانگریس ارکانِ اسمبلی کو دھچکا لگا ہے ۔ انہوں نے اس معاملے کا حتمی فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر چھوڑ دیا ہے ۔یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی جب کانگریس حکومت کے اقتدار میں 100 دن مکمل ہو چکے ہیں اور کابینہ میں دو وزارتی عہدے خالی ہیں۔ کئی ارکانِ اسمبلی کو امید تھی کہ حکومت کے 100 دن مکمل ہونے کے موقع پر کابینہ میں توسیع ہوگی اور انہیں وزیر بننے کا موقع ملے گا۔قیاس آرائیاں تھیں کہ شیواکمار اس ہفتے نئی دہلی جائیں گے اور کانگریس قیادت سے ملاقات کرکے خالی عہدوں کو پُر کرنے منظوری حاصل کریں گے ۔ تاہم چیف منسٹر نے واضح کر دیا کہ فی الحال کابینہ میں توسیع ان کے ایجنڈے میں نہیں ہے ۔شیواکمار نے کہاکہ کابینہ میں توسیع یا نامزدگی فی الحال ایجنڈے میں نہیں ہے ۔ جب بھی قیادت فیصلہ کرے گی، تو یہ عمل ہوگا۔ تب تک ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔ چیف منسٹر کے اس بیان سے اس حساس سیاسی معاملے کا مرکز بنگلورو سے منتقل ہوکر کانگریس کی قیادت بن گیا ہے ، جبکہ شیواکمار کو وزارت کے خواہش مند ارکان کی جانب سے جاری شدید لابنگ سے خود کو الگ رکھنے کا موقع بھی مل گیا ہے ۔ چیف منسٹر کے موقف سے ان متعدد سینئر ارکانِ اسمبلی میں غیر یقینی مزید بڑھنے کا امکان ہے ، جنہوں نے وزارت حاصل کرنے کوششیں تیز کر دی تھیں۔ کئی دعویداروں کے ساتھ علاقائی، ذات پات اور سیاسی مفادات کے مختلف پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے پارٹی کے تمام طبقات کیلئے قابلِ قبول فارمولہ تلاش کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے ۔اس پیشرفت کا وقت بھی خاص اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ حکومت 21 سے 23 ستمبر تک تین روزہ خصوصی اسمبلی اجلاس سے قبل اہم کابینہ اجلاس کی تیاری کر رہی ہے ۔ چہارشنبہ کو کابینہ اجلاس میں بگڑتی خشک سالی کی صورت حال پر غور کا امکان ہے ، جس میں مزید تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے کا فیصلہ بھی شامل ہوسکتا ہے ۔ حکومت پہلے ہی 101 تعلقوں کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دے چکی ہے اور دیگر متاثرہ علاقوں کی صورت حال کا بھی جائزہ لیے جانے کی توقع ہے ۔کابینہ سے فصلوں کے نقصان، پینے کے پانی، چارے و خشک سالی سے متعلق دیگر اقدامات کیلئے مرکز سے مالی مدد کے مطالبے پر غور کرسکتی ہے ۔ حکومت کو خصوصی اجلاس میں زرعی نقصانات کی شدت اور امداد کی ضروریات سے متعلق تازہ اعداد و شمار پیش کرنے کی توقع ہے ۔متنازعہ کستوری رنگن رپورٹ بھی اہم معاملہ ہے جس پر کابینہ میں بحث کا امکان ہے ۔ کرناٹک نے اس رپورٹ کی سفارشات و ماحولیاتی حساس علاقوں سے متعلق مرکز کے مسودہ نوٹیفکیشن کی مخالفت کی ہے ۔ ریاست کا کہنا ہے کہ ان سفارشات پر عمل سے مقامی برادریوں اور زرعی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے ۔خصوصی اسمبلی اجلاس میں خشک سالی سے نمٹنے حکومتی اقدامات و کستوری رنگن رپورٹ، دونوں معاملات پر حکومت کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔اس پس منظر میں کابینہ میں توسیع کانگریس کیلئے ایک سیاسی امتحان بن کر سامنے آئی ہے ۔ حکومت کے 100 دن مکمل کی تکمیل کے باوجود کابینہ کی خالی نشستوں کو پُر نہ کیا جانا حکمراں جماعت کے اندر مختلف مطالبات کو متوازن کرنے میں درپیش مشکلات کو ظاہر کرتا ہے ۔وزارت کے خواہش مند ارکانِ اسمبلی کیلئے شیواکمار کا پیغام واضح ہے کہ قیادت کی منظوری کے بغیر فوری کابینہ میں توسیع نہیں ہوگی۔لہٰذا انتظار جاری ہے ۔