کرناٹک کی طرح مسلم اور ایس ٹی ووٹ بینک کو کانگریس کی طرف منتقل کرنے کی حکمت عملی

   

40 اسمبلی حلقہ جات میں مسلمان اثر انداز، ہر طبقہ کیلئے علحدہ ڈیکلریشن کی تیاریاں،بی آر ایس کو ووٹ بینک بچانے کی فکر
حیدرآباد۔/17 مئی، ( سیاست نیوز) کرناٹک میں کامیابی کیلئے کانگریس کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کو تلنگانہ میں اختیار کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ کانگریس نے اقلیتوں اور قبائیل یعنی ایس ٹی طبقات کے ووٹ بینک کو متحدہ طور پر منتقل کرانے کی تیاری کرلی ہے تاکہ کرناٹک کی طرح پارٹی کو اقتدار پر واپسی میں مدد ملے۔ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی میں اہم رول مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کا رہا۔ جنتا دل سیکولر کی موجودگی کے باوجود رائے دہندوں نے بی جے پی کو شکست دینے کیلئے کانگریس کے حق میں متحدہ ووٹنگ کی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس قیادت نے اقلیتوں اور درج فہرست قبائیل پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان دونوں طبقات کی مکمل تائید سے بی آر ایس کو شکست دی جاسکے۔ تلنگانہ میں مسلمان 12.5 فیصد ہیں جبکہ ایس ٹی طبقہ کی آبادی 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگر یہ دونوں طبقات متحدہ طور پر کانگریس کی تائید کریں تو کانگریس کو اضافی 30 فیصد ووٹ حاصل ہوں گے جو دوبارہ اقتدار میں واپسی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ کرناٹک میں مسلم اور ایس ٹی ووٹوں نے اہم رول ادا کیا اور جنتا دل سیکولر کے روایتی مسلم ووٹ بھی کانگریس کی طرف منتقل ہوگئے۔ کانگریس کی حکمت عملی تیار کرنے والی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ کرناٹک کے نتائج کے بعد تلنگانہ کے مسلمانوں میں بھی کانگریس کے حق میں نرم رویہ دیکھا گیا ہے جسے ووٹ میں تبدیل کرنے پر زبردست کامیابی ہوسکتی ہے۔ تلنگانہ میں 119 اسمبلی حلقہ جات میں 40 حلقہ جات ایسے ہیں جہاں مسلم رائے دہندے کسی بھی امیدوار کی کامیابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 24 جبکہ اضلاع میں 16 اسمبلی حلقہ جات پر مسلم رائے دہندوں کا خاصہ اثر ہے۔ 2014 اور 2018 میں مسلمانوں کی اکثریت نے بی آر ایس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس مرتبہ مسلمان اور ایس ٹی طبقات کا ووٹ بینک بی آر ایس سے کانگریس کی طرف منتقل ہوسکتا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کانگریس نے مسلم رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے سینئر قائدین پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹی مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل سے رابطہ مہم کا آغاز کرے گی۔ پارٹی کو یقین ہے کہ مسلمانوں اور ایس ٹی طبقات کیلئے وعدوں پر مشتمل علحدہ ڈیکلریشن کا کانگریس کو فائدہ ہوگا۔ بی آر ایس کی 9 سالہ حکمرانی میں نظرانداز کئے گئے اقلیتوں کے مسائل پر مبنی انتخابی منشور تیار کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف طبقات کیلئے علحدہ ڈیکلریشن جاری کئے جائیں گے۔ کانگریس کا منصوبہ ہے کہ مسلم رائے دہندوں کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچایا جائے۔ ایسے اسمبلی حلقہ جات جہاں مسلمانوں کی خاطر خواہ آبادی ہے وہاں سینئر قائدین کو مہم کی ذمہ داری دی جائے گی۔ پرانے شہر کے 7 اسمبلی حلقہ جات پر مجلس کا قبضہ ہے اور کانگریس نے مجلس کے روایتی اسمبلی حلقہ جات کے علاوہ دیگر حلقوں میں خصوصی مہم کا فیصلہ کیا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ کے سی آر انتخابات سے قبل مسلم اقلیت کیلئے بعض نئی اسکیمات کا اعلان کرسکتے ہیں۔ گذشتہ 9 برسوں کے دوران اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری میں حکومت کی ناکامی سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ کے سی آر نے ایک طرف 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ پورا نہیں کیا تو دوسری طرف اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے قانون سازی کا تیقن بھی برفدان کی نذر ہوگیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے سابق وزیر محمد علی شبیر کو مسلم ڈیکلریشن کے نکات کو قطعیت دینے کی ذمہ داری دی ہے۔ پارٹی ہر طبقہ کیلئے بڑے جلسہ عام اور اس میں ڈیکلریشن کی اجرائی کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ڈیکلریشن میں شامل کئے جانے والے امور کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں پارٹی ہائی کمان سے منظوری کیلئے روانہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جس طرح کرناٹک میں مقامی مسائل کی بنیاد پر عوامی تائید حاصل کی گئی تھی اسی طرح تلنگانہ میں بھی کانگریس کا ایجنڈہ مقامی مسائل اور فلاح و بہبود رہے گا۔ مسلم اور ایس ٹی طبقات کیلئے کانگریس کی سرگرمیوں نے برسراقتدار بی آر ایس کو اُلجھن میں مبتلاء کردیا ہے اور پارٹی قیادت اپنے روایتی ووٹ بینک کو بچانے کیلئے تگ و دو کررہی ہے۔ر