کرنول میں مسجد کی تعمیر پر بی جے پی چراغ پا

   

مسلم نوجوانوں پر حملے ‘ پولیس کی ہوائی فائرنگ‘ دفعہ 144 نافذ
حیدرآباد۔/8 جنوری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کے ضلع کرنول میں واقع آتما کور میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پدماوتی اسکول کے پاس مسجد کی تعمیر کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا ہوگیا۔ بی جے پی قائدین اور کارکنوں کے حملہ میں اقلیتی طبقہ کے افراد زخمی ہوگئے۔ ڈی جی پی گوتم سوانگ نے واقعہ کی مذمت کی اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیا۔ ڈی جی پی نے عوام کو افواہوں پر توجہ نہ دینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ افواہیں پھیلانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کرنول آتما کور ٹاون میں مسجد فیض النساء کی تعمیر پر بی جے پی قائدین و کارکنوں نے اعتراض کرکے شرانگیزی کی جس کے نتیجہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور دونوں طبقات کے درمیان پتھراؤ اور مارپیٹ کا واقعہ پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس فوری وہاں پہنچ گئی اور دونوں طبقات کے افراد کو سمجھانے کی کوشش کی۔ حالات قابو میں نہ آنے پر ہجوم کو کنٹرول کرنے ہوائی فائرنگ کی اور دونوں طبقات کے چند افراد کو گرفتار کیا۔ دونوں طبقات کے افراد نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے۔ بی جے پی کارکنوں کے حملہ میں کئی اقلیتی نوجوان زخمی ہوگئے جنہیں علاج کیلئے ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ بی جے پی اسمبلی حلقہ کے انچارج بی سریکانت ریڈی نے مسجد کی تعمیر کی مخالفت کی جس پر تنازعہ پیدا ہوگیا پتھراؤ میں ان کی کار کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ مسلم نوجوانوں نے پولیس اسٹیشن کے پاس احتجاج کیا۔ اے پی میں سیاسی فائدہ اٹھانے بی جے پی نے پہلے جناح ٹاور کو نشانہ بنایا اور اب مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی شروع کی۔ پولیس نے حالات کو کنٹرول کرنے آتما کور میں دفعہ 144 نافذ کردیا۔ ن