کسان ایجی ٹیشن ختم کرنے کے بارے میں آج فیصلہ

   

مرکزی حکومت کی تازہ تجویز پر سمیوکت کسان مورچہ میں اتفاق رائے

نئی دہلی : سمیوکت کسان مورچہ نے آج چہارشنبہ کو کہا کہ ان کے زیرتصفیہ مطالبات کے بارے میں مرکزی حکومت کی پیش کردہ نئی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے اور اب وہ جمعرات کو میٹنگ منعقد کرتے ہوئے کسان تحریک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ ویسے کسان قائدین نے حکومت کی طرف سے لیٹرہیڈ پر باقاعدہ مراسلت کا مطالبہ کیا ہے۔ کسانوں نے اجتماعی تنظیم کے ذرائع نے اشارہ دیا کہ جیسے ہی حکومت کی طرف سے متفقہ نئی تجویز کے بارے میں باقاعدہ مراسلت وصول ہوجائے، کسانوں کا ایجی ٹیشن جلد ہی ختم کردیا جائے گا۔ یہ احتجاج گذشتہ سال 26 نومبر کو دہلی سرحد کے تین مقامات سنگھو، غازی پور اور ٹیکری میں شروع کیا گیا تھا۔ کسان لیڈر اور مورچہ کے کور کمیٹی ممبر گرنام سنگھ نے کہا کہ دیرینہ مطالبات کے بارے میں مرکزی حکومت کا پہلے پیش کردہ مسودہ انہیں قابل قبول نہیں تھا جس کے بعد مرکز سے آج تازہ تجویز حاصل ہوئی ہے۔ مورچہ کے ذرائع کے مطابق تازہ تجویز میں وضاحت کی گئی کہ حکومت ایم ایس پی (اقل ترین امدادی قیمت) کے بارے میں مجوزہ کمیٹی میں مورچہ کے ارکان کو شامل کرے گی اور یہ کہ اترپردیش، مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور ہریانہ کی حکومتوں نے کسانوں کے خلاف درج مقدمات سے فوری اثر کے ساتھ دستبرداری سے اتفاق کرلیا ہے۔ دہلی میں درج مقدمات سے بھی دستبرداری اختیار کی جائے گی۔ مورچہ نے اپنی کور کمیٹی کی میٹنگ کے بعد ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی تازہ تجویز پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ اب حکومت کے لیٹرہیڈ پر دستخط کے ساتھ باقاعدہ تحریر کا انتظار ہے۔ مورچہ جمعرات کو دوپہر 12 بجے سنگھو بارڈر دوبارہ میٹنگ منعقد کرے گا جس میں ایجی ٹیشن کی برخاستگی پر قطعی فیصلہ ہوگا۔