مودی حکومت مقدمات سے دستبرداری کیلئے تیار۔ دیگر مسائل پر کسانوں کو واضح اقدامات کا انتظار
نئی دہلی : سمیوکت کسان مورچہ چہارشنبہ کو دوپہر 2 بجے اہم میٹنگ منعقد کرے گا۔ یہ میٹنگ سنگھو سرحد پر منگل کو منعقد ہونا تھا لیکن اُسے ملتوی کردیا گیا۔ مودی حکومت نے احتجاجی کسانوں کے بعض مطالبات قبول کرتے ہوئے اُن سے ایجی ٹیشن ختم کردینے کی اپیل کی ہے۔ مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ احتجاجی کسانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لئے جائیں گے۔ تاہم کسانوں کو دیگر مطالبات پر حکومت کی طرف سے واضح تیقن نہیں دیا گیا ہے۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیٹ نے کہاکہ بعض مسائل پر غیریقینی کیفیت برقرار ہے، اِس لئے وہ آج کی میٹنگ ملتوی کرتے ہوئے کل اجلاس منعقد کریں گے جس میں ایجی ٹیشن کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ مرکز نے احتجاجی کسانوں کو اُن کے مطالبات کے تعلق سے ایک مسودہ کاپی بھیجی ہے جس پر میٹنگ میں غوروخوض کیا جائے گا۔ ایک کسان لیڈر نے کہاکہ مرکز نے کسانوں کے خلاف فوجداری الزامات حذف کرنے کے لئے پہلے ایجی ٹیشن ختم کردینے کی شرط لگائی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس طرح کی شرطیں قابل قبول نہیں ہیں۔ اقل ترین امدادی قیمت (ایم ایس پی) اہم مطالبات میں سے ہے۔ اِس تعلق سے بھی ٹھوس حکومتی اقدام کا انتظار ہے۔ سمیوکت کسان مورچہ 40 کسان یونینوں سے زائد کی اجتماعی تنظیم ہے۔ یہ طاقتور تنظیم ہے جس کے فیصلے وسیع طور پر تسلیم کئے جاتے ہیں۔