اسکولس و تعلیمی اداروں کی کشادگی کیلئے حکام کی تمام تر کوششیں ناکام ‘ والدین متفکر
سرینگر 4 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر میں آج جمعہ کو مسلسل 61 ویں دن بھی عام زندگی متاثر رہی کیونکہ مارکٹیں بن درہیں اور عوامی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی اور کہا کہ صبح کے وقت 9.30 بجے سے کچھ دوکانیں کھولی گئی تھیں تاہم وہ 11 بجے کے بعد بند ہوگئیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ حالانکہ وادی میں کہیں بھی کوئی تحدیدات نہیں ہیں لیکن سکیوریٹی فورسیس کی خاطر خواہ تعداد کو حساس علاقوں میں متعین رکھا گیا ہے تاکہ لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھا جاسکے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کچھ آٹو رکشاء اور کچھ بین ضلعی کیبس یہاں چلتی دکھائی دیں تاہم دوسرے عوامی ٹرانسپورٹ ہنوز سڑکوں سے غائب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کی بہ نسبت جمعہ کو خانگی کاروں کی نقل و حرکت بھی کم دیکھی گئی جبکہ جمعرات کو کچھ مقامات پر ٹریفک جام کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی ۔ کشمیر میں ہندواڑہ اور کپواڑہ علاقوں کے سواء تمام مقامات پر موبائیل خدمات ہنوز معطل ہیں جبکہ انٹرنیٹ خدمات ساری وادی میں 5 اگسٹ ہی سے معطل ہیں جب وہاں دفعہ 370 کو ختم کردیا گیا تھا ۔ یہاں خصوصی موقف کی برخواستگی کے بعد سے اسکولس کے کام کاج پر بھی منفی اثر ہوا ہے ۔ 5 اگسٹ کو مرکزی حکومت نے ریاست کے خصوصی موقف کو ختم کردیا تھا اور اس کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا تھا ۔ عہدیداروں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولس کے کام کاج کو باقاعدہ بنانے ہر ممکن کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم اس کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں کیونکہ بیشتر والدین سلامتی کے اندیشوں کے تحت اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے تیار نہیں ہیں۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر خان نے پیر کو تمام ڈپٹی کمشنران اور متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام سرکاری اور خانگی اسکولس جمعرات تک کھل جائیں اور کالجس کو9 اکٹوبر سے کھولا جائے تاہم ایسا نہیں ہوسکا ۔ ریاست میں بیشتر علیحدگی پسند قائدین اور سیاسی قائدین کو نظر بند رکھا گیا ہے ۔ ان میں دو سابق چیف منسٹرس عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فاروق عبداللہ کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ۔