کشمیر :پابندیوں سے معمولات زندگی متاثر

,

   

سری نگر، 20اگست (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر میں گزشتہ پانچ اگست کو آئین کے آرٹیکل 370اور 35 Aکو ہٹائے جانے کے منظر نامہ میں نافذ پابندیوں اور ہڑتال کی وجہ سے منگل کو بھی وادی میں معمولات زندگی متاثر رہے ۔مسلسل 16ویں دن براڈبینڈ اور موبائل سروس بند رہی۔ شہر کے پرانے علاقوں اور شہر خاص میں کاروباری اور دیگر سرگرمیوں پر اثر پڑا ہے ، حالانکہ رات میں کہیں سے کسی طرح کے بڑے واقعہ کی رپورٹ نہیں ہے ۔انتظامیہ نے کسی بھی طرح کی مخالفت یا مظاہرہ کو روکنے کے لئے حریت کانفرنس کے صدر میرواعظ عمرفاروق مولوی کے گڑھ تاریخی جامع مسجد کے تمام داخل ہونے کے دروازوں کو بند رکھا ہے اور وہاں سلامتی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ شہر میں احتیاط کے طور پر بڑی تعداد میں نیم فوجی دستوں اور پولیس کو تعینات کیا گیا ہے ۔ضروری چیزوں جیسے دودھ، بچوں کا کھانہ، سبزیاں اور دواؤں کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ سری نگر اور باہری علاقوں میں مسلسل 16ویں دن منگل کو دکانیں اور کاروباری ادارہ پھر سے بند رہے اور سڑکوں سے ٹریفک ندارد رہا۔ شہر میں نئے علاقوں میں پرائیویٹ گاڑیاں اورزیادہ تر دو پہیہ گاڑیاں چلتی نظر آئیں۔ چھاپوں کے دوران 24 سے نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ کشمیر میں چار اگست کی نصف رات سے انٹرنیٹ اور تمام کمپنیوں کی موبائل خدمات بند ہیں۔ نئے شہروں کے کچھ حصوں میں بی ایس این ایل کی لینڈلائن خدمات کو بحال کیا گیا ہے ۔ میڈیا ہاوس اور صحافیوں کے لینڈ لائن بند ہیں۔ انتظامیہ نے وادی میں سینئر انتظامی افسران کے لئے سیٹ لائٹ فون جاری کئے ہیں۔ سیکورٹی اسباب سے پانچ اگست سے ٹرین خدمات بھی بند ہیں۔حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے صدور میرواعظ اور سید علی شاہ گیلانی کو نظربند کیا گیا ہے ۔