موجودہ حکومت کا ’’آزادی‘‘ کا تصور بالکل غلط
نئی دہلی۔11 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سہ شنبہ کے دن جنتر منتر پر سینکڑوں طلباء اکٹھا ہوکر ’’جمہوریت کی موت‘‘ کا سوگ منانے لگے اور محرم کے مہینے کے موقع پر 370 دفعہ کی منسوخی کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ یوم عاشورہ کو ساری دنیا میں مسلمان پیغمبر اسلام حضرت محمدؐ کے نواسے حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا غم مناتے ہیں۔ احتجاجیوں نے کشمیر کے موجودہ حالات کا اظہار کرنے والا ایک ڈھانچہ تعمیر کیا جس کی شکل جیل خانے جیسی تھی اور وہاں احتجاج کیا۔ جامعہ ملیہ کے ایک سابق طالب علم فائق نے بتایا کہ ’’ہم ناانصافی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ہم ملک کے ایک شہری کی حیثیت سے ہماری بات نہ سننے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں اور حکومت اپنے فیصلے کرتی رہتی ہے۔ ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ جمہوریت کسی ایک شخص کی جانب سے عوام پر فیصلے لاد دینے کو نہیں کہتے، کم از کم شہریوں کو زبان تو کھولنی چاہئے۔ انہیں اپنی بات تو کہہ دینا چاہئے۔ احتجاجیوں کے ہاتھ میں ورقیے تھے جن پر ’’جمہوریت کی موت‘‘ اور ’’ہم کشمیر کے ساتھ ہیں‘‘ جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔ احتجاجیوں نے کشمیر پر ’’36 دن سے فوجی جمہوریت‘‘ کے تسلط پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت جو یہ دعوی کرتی ہے کہ کشمیر کے حالات معمول پر لوٹ آئے ہیں۔ یہ بات بالکل غلط ہے ایک اور احتجاج کرنے والے نے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے مواصلات اور ادویات کی قلت ہوگئی۔ ’’آزادی‘‘ کا جو تصور موجودہ حکومت کشمیر کے عوام کو دے رہی ہے وہ پوری طرح غلط ہے۔