نئی دہلی ۔ 27نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس سینئر قائد غلام نبی آزاد نے آج سپریم کورٹ میں بتایا ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے ، اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت جموں و کشمیر کے 7ملین عوام کی زندگیوں کو مفلوج کردیں اور اُن پر دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پابندیاں عائد کردیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت یہ دعویٰ کررہی ہے جموں و کشمیر کے تمام پولیس اسٹیشنوں کے حدود سے دفعہ 144 ہٹا لیا گیا ہے لیکن اس سلسلہ میں کوئی احکامات نہیں ہیں ۔ جسٹس این وی رمنا ، جسٹس آر سبھاش ریڈی اور جسٹس پی آر گوی پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے غلام نبی آزاد اور کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر انورادھا بھاسن کی درخواستوں کی سماعت کے بعد فیصلہ کو محفوظ رکھا ۔عدالت عظمی نے محسوس کیا کہ شہریوں کے حقوق اور قومی سلامتی کے درمیان توازن کی ضرورت ہے ۔ سینئر وکیل کپل سبل نے غلام نبی آزاد کی وکالت کرتے ہوئے بتایا کہ ریاستی انتظامیہ کی جانب سے جو اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں اس میں دعویٰ کیا گیا کہ جموں کشمیر میں حالات معمول پر آگئے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برخلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قانونی اصولوں کی بنیاد پر عدالت کو پابندیوں کی مدت تہہ کرنی چاہیئے ۔ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد 100دن سے کشمیر میں پابندیاں عائد ہیں ۔