ہر میت کا ٹسٹ کرنے حکومت تیار نہیں، عدالت کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج
حیدرآباد۔/9 جون، ( سیاست نیوز) کورونا کی صورتحال سے نمٹنے کے مسئلہ پر تلنگانہ حکومت اور ہائی کورٹ میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ حکومت نے ریاست میں فوت ہونے والے ہر شخص کی میت کا کورونا ٹسٹ کرانے کی ہدایت دی ہے لیکن حکومت اس پر عمل آوری کیلئے تیار نہیں۔ تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ٹسٹ کی تعداد میں اضافہ اور ہر میت کے کورونا ٹسٹ کے بارے میں احکامات پر عمل نہ کئے جانے پر ناراضگی جتائی۔ حکومت اور ہائی کورٹ میں ٹکراؤ کا یہ معاملہ چیف منسٹر کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں بھی زیر بحث رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے عدالت میں مفاد عامہ کی درخواستوں کے ادخال پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں سماعت کے سلسلہ میں عہدیداروں کی سرگرمیوں کے نتیجہ میں کورونا کی صورتحال سے نمٹنے میں دشواری ہورہی ہے۔
چیف منسٹر نے کہا کہ مفاد عامہ کی درخواستیں مفادات حاصلہ کی جانب سے دائر کی جارہی ہیں جس کے نتیجہ میں محکمہ صحت کے سینئر عہدیداروں کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے۔ حکومت نے واضح کردیا کہ کسی بھی مرض سے فوت ہونے والے ہر میت کا کورونا ٹسٹ ممکن نہیں ہے اس سلسلہ میں ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست میں روزانہ 900 تا 1000افراد مختلف وجوہات سے فوت ہوتے ہیں۔ روزانہ ریاست کے کسی دور دراز علاقہ میں کسی نہ کسی کی موت واقع ہوتی ہے اور ان کا کورونا ٹسٹ کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر ہاسپٹلس کے میڈیکل اسٹاف کو اس کام پر مامور کردیا گیا تو انہیں مریضوں کے علاج کیلئے وقت نہیں ملے گا۔
ہاسپٹل کو مختلف امراض کے سبب اور بعض ڈیلیوری کے سلسلہ میں مریض رجوع ہوتے ہیں۔ حکومت نے کہا کہ کورونا کے مریضوں کو چھوڑ کر میتوں کا ٹسٹ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن، انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ یا مرکزی حکومت نے کبھی بھی میتوں کے ٹسٹ کے بارے میں نہیں کہا۔ اس سلسلہ میں ہائی کورٹ کی ہدایات ناقابل عمل ہیں۔ حکومت ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرے گی۔ واضح رہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کورونا ٹسٹ کی تعداد میں اضافہ اور ہر میت کا ٹسٹ کرنے کے حق میں احکامات جاری کئے۔ عدالت نے یہاں تک کہہ دیا کہ سپریم کورٹ میں سماعت تک اس کے احکامات پر عمل کیا جائے ۔