بے تحاشہ اموات سے سبق حاصل نہ کرنا زندگی کو خطرہ میں ڈالنے کے مترادف
حیدرآباد۔ پرانے شہر کے علاقوں میں ہونے والی اموات کو دیکھنے کے باوجود اگر شہریوں کے طرز زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے تو ایسی صورت میں ان کی زندگیو ںمیں کوئی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی کیونکہ پڑوس میں ہونے والی اموات اور صورتحال کو دیکھنے کے باوجود اگر وہ اپنے طرززندگی میں تبدیلی نہیں لاتے ہیں تو انہیں آئندہ دنوں کے دوران مز ید سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ لاپرواہی کے سبب جو حالات پیدا ہونے لگے ہیں ان حالات میں شہر کے کسی دواخانہ میں بستر حاصل ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں گذشتہ چند یوم سے اموات کی شرح میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور بسا اوقات ایک ہی محلہ اور گلی میں کئی اموات بھی واقع ہونے لگی ہیں لیکن اس کے باوجود علاقہ کے عوام کے رہن سہن اور طرز زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی جا رہی ہے جو کہ ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگیوں کو خطرہ میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ سوشل میڈیا پر ملک بھر میں ہونے والی اموات کی اطلاعات کے بعد شہریوں میں خوف اور دہشت پیدا ہونے لگا ہے لیکن نوجوانوں کے طرز زندگی میں تبدیلی نہیں دیکھی جا رہی ہے جو کہ گھر میں رہنے والے ضعیف العمر افراد کے علاوہ بچوں کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔ شہر حیدرآباد کے بیشتر قبرستانوں میں رات دیر گئے تک تدفین ہوتی نظر آنے لگی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اکثر رات دیر گئے اور فجر کے فوری بعد تدفین کا عمل مکمل کیا جا رہاہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے خانگی دواخانوں میں جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑی تعداد شریک ہے اور شہر کے ایک سرکردہ دواخانہ کے کریٹیکل کئیر سنٹر میں زائد از 200 مریض شریک ہیں اور یومیہ 10 سے زائد اموات واقع ہونے لگی ہیں اور شریک دواخانہ ہونے والوں کی تعداد میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ پرانے شہر کے ہوٹلوں اور بازاروں میں عوام کے ہجوم کو دیکھتے ہوئے کئی گوشوں سے حیرت کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے کسی قسم کے رہنمایانہ اصولوں پر عمل نہ کروائے جانے کے سبب حالات سنگین ہوسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت تمام معاملات کو نظر انداز کئے ہوئے ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں جبکہ اگر محلہ واری اساس پر ہونے والی اموات کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران پرانے شہر میں فوت ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔