کولمبیا یونیورسٹی کی فلسطینی حامی مظاہرین کو سزا

   

بوگوٹا: کولمبیا یونیورسٹی نے جمعرات کو کہا کہ اس نے فلسطینی حامی مظاہروں کے دوران گذشتہ موسم بہار میں کیمپس کی عمارت پر قبضہ کرنے والے طلباء کو متعدد سزائیں دی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ اس نے کیمپس میں آئیوی لیگ اسکول کے یہود دشمنی پر ناقص ردِ عمل کے جواب میں وفاقی گرانٹس اور معاہدوں میں 400 ملین منسوخ کر دیئے۔ یونیورسٹی کا یہ اعلان ٹرمپ کے فیصلے کے ایک ہفتہ بعد سامنے آیا ہے۔کولمبیا یونیورسٹی کی عبوری صدر کترینہ آرمسٹرانگ نے انتظامیہ کے خدشات کو جائز قرار دیا اور کہا کہ ان کا ادارہ مسائل کے حل کیلئے حکومت کیساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ کیمپس کے احتجاج اور اسرائیل نواز جوابی مظاہروں کے باعث یہود دشمنی، اسلامو فوبیا اور نسل پرستی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
یونیورسٹی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ اس کے “عدالتی بورڈ نے نتائج کا تعین کیا اور گذشتہ موسم بہار میں ہیملٹن ہال پر قبضے سے متعلق کئی سالوں کی معطلی سے لے کر ڈگریوں کی عارضی منسوخی اور یونیورسٹی سے اخراج تک طلباء￿ پر پابندیاں عائد کیں۔”یونیورسٹی کا جوڈیشل بورڈ طلباء￿ ، فیکلٹی اور عملہ پر مشتمل ہوتا ہے جسے یونیورسٹی سینیٹ کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔یونیورسٹی نے پرائیویسی کی قانونی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان طلبہ کے نام ظاہر نہیں کیے جو نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا شکار ہوئے اور نہ ہی یہ بتایا کہ کتنے طلبہ کو سزا کا سامنا کرنا پڑا جس کے خلاف وہ اپیل کر سکتے ہیں۔