متنازعہ بیانات اور ویڈیوز کا سہارا، بنڈی سنجے اور راجہ سنگھ کی زہر افشانی، الیکشن کا انڈیا ۔ پاکستان میچ سے تقابل
حیدرآباد۔/25فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں قانون ساز کونسل کی تین نشستوں کے انتخابات میں کامیابی کیلئے بی جے پی نے مہم کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ بی جے پی قائدین کے علاوہ سوشیل میڈیا پر بی جے پی کی جانب سے قابل اعتراض ویڈیوز اور بیانات جاری کئے جارہے ہیں تاکہ اکثریتی طبقہ کے رائے دہندوں کو بی جے پی کے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دی جاسکے۔ ریاست میں ٹیچرس زمرہ کی دو اور گریجویٹ زمرہ کی ایک ایم ایل سی نشست پر انتخابی مہم آج اختتام کو پہنچی جبکہ رائے دہی 27 فروری کو مقرر ہے۔ انتخابی مہم کے آخری مرحلہ میں مرکزی مملکتی وزیر داخلہ بنڈی سنجے کمار نے ایم ایل سی الیکشن کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچ سے تشبیہہ دی اور کہا کہ بی جے پی انڈین ٹیم ہے جبکہ کانگریس پاکستانی ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو مجلس کی تائید حاصل ہے لہذا وہ پاکستانی ٹیم بن چکی ہے۔ بنڈی سنجے کمار نے انتخابی مہم کے دوران کئی متنازعہ بیانات دیتے ہوئے انتخابی مہم کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ بی جے پی کے سوشیل میڈیا انسٹا گرام ہینڈل پر آج مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی اور ناندیڑ کے مجلسی قائد کی تقاریر پر مشتمل ویڈیو وائرل کیا گیا۔ ویڈیو میں دونوں قائدین 15 منٹ کا متنازعہ بیان دے رہے ہیں۔ دونوں قائدین کے 15 منٹ سے متعلق بیانات کا ویڈیو وائرل کرتے ہوئے بی جے پی نے کونسل انتخابات کے رائے دہندوں سے بی جے پی امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ اسی دوران گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے ایک تازہ ویڈیو وائرل کیا جس میں انہوں نے شیو راتری کے موقع پر مسلم تاجرین سے خریدی نہ کرنے کی ہندوؤں سے اپیل کی ہے۔ اگرچہ ان کا یہ بیان شیو راتری کی خریدی سے متعلق ہے لیکن انتخابی مہم کے دوران ویڈیو وائرل ہونے سے اسے پارٹی الیکشن میں فائدہ کیلئے استعمال کررہی ہے۔ راجہ سنگھ نے ویڈیو میں کہا کہ مسلم تاجر چونکہ گوشت کھاتے ہیں اور بقول ان کے ہفتہ دس دن غسل نہیں کرتے لہذا ان سے ناریل، پوجا کا سامان اور مٹھائی کی خریدی نہ کی جائے۔ بنڈی سنجے اور راجہ سنگھ کے بیانات کو بی جے پی کارکن اضلاع میں وائرل کرتے ہوئے کونسل انتخابات کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو ان سرگرمیوں کا سختی سے نوٹ لینا چاہیئے۔1