کونسل میں جناب عامر علی خاں اقلیتوں کی موثر نمائندگی کریں گے : طارق انور

   

l حقائق کو منظر عام پر لانے اور پسماندہ طبقات کے لیے آواز اٹھانے میں ادارہ سیاست کا منفرد مقام
l جناب عامر علی خاں کی تہنیتی تقریب سے سینئیر کانگریس قائد و رکن پارلیمنٹ کا خطاب
حیدرآباد۔27۔اگسٹ(سیاست نیوز) ملک کے موجودہ ماحول میں ادارہ سیاست نے ذرائع ابلاغ کی جو ذمہ داری نبھائی ہے اس کے لئے خاندان سیاست قابل مبارکباد ہے۔ حکومت کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے ادارۂ سیاست نے حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے حکومت پر تعمیری تنقیدوں اور پسماندہ طبقات کے لئے آواز اٹھاتے ہوئے اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔جنوبی ہند بالخصوص سابق ریاست حیدرآباد دکن کے تمام حصوں میں تہذیب و تمدن کے علاوہ ثقافت کے تحفظ کے علاوہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں ادارہ سیاست کا کلیدی کردار رہا ہے ۔ رکن پارلیمنٹ جناب طارق انور نے آج رویندر بھارتی میں منعقدہ رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان کی تہنیتی تقریب سے خطاب کے دوران یہ بات کہی اور انہیں رکن قانون ساز کونسل منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے مزید درخشاں مستقبل کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ وہ قانون ساز کونسل میں اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی آواز بن کر ابھریں گے۔ جناب طارق انور نے ادارۂ سیاست سے اپنے دیرینہ روابط کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بانی روزنامہ سیاست جناب عابد علی خان‘ ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان اور مرحوم منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب ظہیر الدین علی خان کی کارکردگی اور خدمات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ جناب طارق انور نے کہا کہ جناب عامر علی خان کو کانگریس پارٹی سربراہ مسٹر ملکارجن کھرگے ‘ مسز سونیا گاندھی ‘ مسٹر راہول گاندھی کے علاوہ مسز پرینکا گاندھی کی مکمل تائید حاصل ہے اور انہیں امید ہے کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور تلنگانہ پردیش کانگریس قائدین بھی جناب عامر علی خان کو رکن قانون ساز کونسل بنائے جانے پر ان کے ساتھ مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔ جناب عامر علی خان نے سابق رکن راجیہ سبھا جناب وی ہنمنت راؤ کی جانب سے منعقدہ تہنیتی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ کانگریس پارٹی نے انہیں جو موقع دیا ہے وہ اس موقع سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ریاست میں مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ ریاستی حکومت نے جو مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات سے وعدے کئے ہیں انہیں پورا کرے گی۔ رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ نے جاریہ مالی سال کے لئے محکمہ اقلیتی بہبود کا بجٹ 3003 کروڑ روپئے مختص کیا ہے اور جاریہ سال کے دوران اس بجٹ کے مکمل استعمال کے سلسلہ میں وہ اپنی ممکنہ کوشش کریں گے اور سابق کی طرح بجٹ کو واپس ہونے نہیں دیا جائے گا۔ جناب عامر علی خان نے بتایا کہ ادارہ سیاست ہمیشہ سے ہی سیکولر ازم کا علمبردار رہا ہے اور وہ اب جبکہ عملی سیاست میں قدم رکھ چکے ہیں تب بھی وہ اپنے صحافتی اقدار کو فراموش نہیں کریں گے بلکہ سیکولر ازم کی بقاء اور تحفظ کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی طبقات کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ کانگریس پارٹی نے انہیں جو ذمہ داری حوالہ کی ہے اس کے لئے وہ پارٹی اعلیٰ کمان بالخصوص صدر کانگریس مسٹر ملکارجن کھرگے ‘ مسز سونیا گاندھی ‘ مسٹر راہول گاندھی اور مسز پرینکا گاندھی کے ممنون و مشکور ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں کانگریس نے تحفظات کی فراہمی کے ذریعہ مسلمانوں کو قریب کیا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بناء پر مسلمانوں کانگریس سے دور ہوچکے تھے لیکن اب جو مسلمان کانگریس کے قریب ہوئے ہیں انہیں یقین ہے کہ وہ کانگریس کو ملک میں اقتدار پر لانے تک خاموش نہیں رہیں گے بلکہ ہندستان بھر میں مسلمان کانگریس سے اٹوٹ وابستگی اختیار کرنے لگے ہیں کیونکہ ہندستانی مسلمانوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوچکا ہے کہ کانگریس ہی ملک میں سیکولرازم کے تحفظ کے علاوہ کمزور طبقات کی آواز ہے۔ جناب وی ہنمنت راؤ نے اس تہنیتی تقریب سے خطاب کے دوران ریاستی حکومت تلنگانہ سے اپیل کی کہ وہ جناب عامر علی خان رکن قانون ساز کونسل کو ریاستی کابینہ میں شامل کرتے ہوئے ان کی حکومت میں موجودگی سے فائدہ اٹھائیں اور تلنگانہ کے مسلمانوں اور پسماندہ طبقات کو حکومت میں نمائندگی فراہم کریں۔ مسٹر ہنمنت راؤ نے اپنے خطاب کے دوران جناب عامر علی خان کے انتخاب پر کانگریس پارٹی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی نے سیاست خاندان کے فرد کا رکن قانون سازکونسل کی حیثیت سے انتخاب کرتے ہوئے کمزور اور پچھڑے ہوئے طبقات کو آواز فراہم کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 75 سال سے اخبار سیاست تمام کمزور طبقات کی آواز بنا ہوا ہے ۔ اس تقریب سے جناب واجد حسین‘ جناب یوسف زئی ‘ جناب این روہن ریڈی ‘ جناب سید نظام الدین ‘ جناب مہیشور کے علاوہ مختلف اداروں اور کارپوریشنوں کے صدورنشین نے مخاطب کرتے ہوئے جناب عامر علی خان کو ریاستی کابینہ میں شامل کئے جانے کی تائید کی اور کہا کہ جناب عامر علی خان بہ حیثیت صحافی مسلمانوں کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقات کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور بیباکی کے ساتھ ملی مسائل پر آواز اٹھاتے رہے ہیں اسی لئے انہیں عوامی مسائل حل کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہئے ۔ اس تہنیتی تقریب کے دوران کانگریس کے سرکردہ سینیئر قائدین کی بڑی تعداد موجود تھی اس کے علاوہ حافظ سید محمد علی قادری اور دیگر موجود تھے ۔ تہنیتی تقریب کے دوران انقلابی گلوکاروں نے اپنے نغموں کے ذریعہ جناب ظہیر الدین علی خان کی خدمات کو خراج پیش کیا اور جناب عامر علی خان کو تہنیت پیش کی گئی ۔ جناب عامر علی خان کی آمد پر سامع نوازی کے ساتھ ان کا استقبال کیاگیا۔3