27 فروری امتحان کا دن ، کانگریس امیدوار نریندر ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیل
56 ہزار سرکاری ملازمتیں ریونت ریڈی حکومت کا کارنامہ
حیدرآباد۔ 24فروری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل عامر علی خان گریجویٹ حلقہ میدک، نظام آباد، عادل آباد، کریم نگر کے گریجویٹ طبقہ بالخصوص اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ 27 فروری کو ہونے والے انتخابات میں کانگریس امیدوار نریندر ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ یہ انتخابات سکیولرازم اور فرقہ پرستی کے درمیان مقابلہ ہیں۔گریجویٹ حلقہ میں 3لاکھ 55 ہزار 159 ووٹ ہیں۔ اس مقابلے میں کانگریس امیدوار کو کامیاب بناکر فرقہ پرستی کا خاتمہ کریں۔ ریاست میں کانگریس حکومت ہے، کانگریس سکیولر نظریات پر قائم ہے۔ ریونت ریڈی کے دور حکومت میں سماج کے تمام طبقات بالخصوص بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے۔ سرکاری ملازمین کی ترقی و بہبود کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ کانگریس کے ایک سالہ دور حکومت میں 56 ہزار سے زائد سرکاری ملازمتیں فراہم کرکے عوام سے کئے گئے اہم وعدے کی تکمیل کی گئی۔ اس کے علاوہ حکومت نے جاب کیلنڈر جاری کرکے ہر سال سرکاری ملازمتوں کے تقررات کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ جبکہ مرکز کی بی جے پی حکومت بالخصوص وزیراعظم نریندر مودی نے ہر سال 2 کروڑ ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا تھا جس کو آج تک پورا نہ کرتے ہوئے نوجوانوں کو دھوکہ دیا گیا۔ ’میک اِن انڈیا‘ کا نعرہ بے فیض ثابت ہوا۔ ’بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ‘ کا نعرہ ایک فریب بن کر رہ گیا۔ مہنگائی کم کرنے کا وعدہ انتخابی جملہ بن کر رہ گیا۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ دونوں مرکزی وزراء جی کشن ریڈی اور بنڈی سنجے تلنگانہ کیلئے مرکز سے ایک روپیہ تک نہیں لاپائے۔ ایسی بی جے پی پر عوام کیوں بھروسہ کریں۔ ووٹ دینے سے پہلے گریجویٹ اس پر خاص طور پر غور کریں۔ گریجویٹ حلقہ کونسل کے سرکاری ملازمین اور گریجویٹ طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کانگریس امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناکر اپوزیشن بالخصوص بی جے پی کے ناپاک عزائم کو شکست دیں۔ بی جے پی سے گریجویٹ اور ٹیچرس کوٹہ کے کونسل انتخابات کو فرقہ پرستی کا رنگ دے کر عوام میں نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ بی سی طبقات میں مسلمانوں کی شمولیت کو مذہبی رنگ دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عامر علی خان نے کہا کہ اب وقت آگیا کہ بی جے پی کو شکست دی جائے اور کانگریس کو کامیاب بنایا جائے ۔ بی جے پی کے 8 ارکان پارلیمنٹ بشمول 2 مرکزی وزراء اور 8 ارکان اسمبلی کے علاوہ دیگر قائدین مسلم فوبیا میں مبتلا ہیں۔ ہر چیز کو مذہب سے جوڑ کر ریاست کے لا اینڈ آرڈر کو بگاڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ ووٹ کے ذریعہ بی جے پی کے نفرت انگیز ایجنڈے کو شکست دی جاسکتی ہے، لہذا وہ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ تلنگانہ کی ترقی، عوام کی فلاح و بہبود اور امن و امان کی برقراری کیلئے کانگریس امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب بناکر چیف منسٹر ریونت ریڈی کے ہاتھ مضبوط کریں۔ 2