کونڈہ سریکھا کے خلاف کے ٹی آر کا ہتک عزت کا مقدمہ

   

گواہوں کے طور پر اہم قائدین کے نام، نامپلی کورٹ میں 14 اکٹوبر کو آئندہ سماعت
حیدرآباد 10 اکٹوبر (سیاست نیوز) وزیر جنگلات کونڈہ سریکھا کی مشکلات میں اُس وقت اضافہ ہوگیا جب بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے نامپلی کورٹ میں اُن کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کردیا۔ فلم اسٹار ناگا چیتنیا اور سمنتا کے طلاق کے مسئلہ پر کونڈہ سریکھا نے تبصرہ کرتے ہوئے کے ٹی راما راؤ کو طلاق کیلئے ذمہ دار قرار دیا تھا۔ ریاستی وزیر نے فلمی، سماجی اور سیاسی شخصیتوں کی جانب سے ردعمل کے بعد اپنا بیان واپس لے لیا تھا لیکن ناگرجنا نے اُن کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ پیش کیا۔ دوسری طرف کے ٹی آر نے بھی ریاستی وزیر کونڈہ سریکھا کو عدالت میں گھسیٹنے کی کوشش کی ہے۔ نامپلی کی عدالت میں آج کے ٹی آر کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت 14 اکٹوبر تک ملتوی کی ہے۔ سمنتا اور ناگا چیتنیا کے بارے میں شخصی ریمارکس کرتے ہوئے کے ٹی آر کا حوالہ دیا گیا جس پر کے ٹی آر کے وکیل نے عدالت سے کہاکہ کونڈہ سریکھا کے بیان سے اُن کے موکل کا امیج متاثر ہوا ہے۔ عدالت سے درخواست کی گئی کہ ریاستی وزیر کے خلاف ازروئے قانون کارروائی کی جائے۔ کے ٹی آر نے اپنی درخواست کے حق میں 23 مختلف ثبوت پیش کئے گئے۔ گواہوں کے طور پر بی آر ایس قائدین بی سمن، ستیہ وتی راتھوڑ، ٹی اوما، ڈی شراون کے نام درخواست میں شامل ہیں۔ عدالت میں کونڈہ سریکھا کے میڈیا میں دیئے گئے بیان کی ویڈیو کلپنگ بطور ثبوت پیش کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کے ٹی آر کے وکیل نے کونڈہ سریکھا کے بیانات کے اخباری تراشے اور مختلف میڈیا میں وائرل ویڈیوز کی ریکارڈنگ بھی بطور ثبوت پیش کی۔ عدالت نے 14 اکٹوبر کو آئندہ سماعت مقرر کی اور توقع ہے کہ سماعت کے موقع پر گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے جائیں گے۔ کے ٹی آر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز وزیر کی جانب سے اُن کے موکل کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے۔ عدالت کی جانب سے اگلی سماعت کے موقع پر کونڈہ سریکھا کو سمن جاری کئے جانے کا امکان ہے تاکہ وہ اِس معاملہ میں اپنا موقف پیش کرسکیں۔ 1